خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 313 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 313

خطبات مسرور 313 $2003 پھر ایک روایت آتی ہے حضرت علی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں۔نمبر ا: جب وہ اسے ملے تو اسے السلام علیکم کہے۔نمبر ۲: جب وہ چھینک مارے تو یرحمک اللہ کہے۔نمبر ۳۔جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے۔اور بعض لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ بڑی اچھی عادت ہوتی ہے کہ خود جا کر خیال رکھتے ہوئے ہسپتالوں میں جاتے ہیں اور مریضوں کی عیادت کرتے ہیں خواہ واقف ہوں یا نہ واقف ہوں۔ان کے لئے پھل لے جاتے ہیں، پھول لے جاتے ہیں۔تو یہ طریقہ بڑا اچھا ہے خدمت خلق کا۔نمبر ۴ : جب وہ اس کو بلائے تو اس کی بات کا جواب دے۔نمبر ۵:۔جب وہ وفات پا جائے تو اس کے جنازہ پر آئے۔اور نمبر 4 : اور اس کے لئے وہ پسند کرے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔اور اس کی غیر حاضری میں بھی وہ اس کی خیر خواہی کرے۔فرمایا: (سنن دارمی، کتاب الاستیذان باب فی حق المسلم على المسلم) پھر روایت ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ اللہ نے ایک دوسرے سے حسد نہ کرو۔ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لیے بڑھ چڑھ کر بھاؤ نہ بڑھاؤ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ موڑ و یعنی بے تعلقی کا روبہ اختیار نہ کرو۔ایک دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرو بلکہ اللہ تعالیٰ کے بندے (اور ) آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔مسلمان اپنے بھائی پر ظلم نہیں کرتا۔اس کی تحقیر نہیں کرتا۔اس کو شرمندہ یا رسوا نہیں کرتا۔آپ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: تقویٰ یہاں ہے۔یہ الفاظ آپ نے تین دفعہ دہرائے ، پھر فرمایا: انسان کی بدبختی کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقارت کی نظر سے دیکھے۔ہر مسلمان کا خون ، مال اور عزت و آبرو دوسرے مسلمان پر حرام اور اس کے لئے واجب الاحترام ہے۔(مسلم، كتاب البر والصلة باب تحريم ظلم المسلم و خذله)