خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 312
$2003 312 خطبات مسرور تھیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک بہت بڑا حصہ ان سے بالکل پاک تھا اور ہے لیکن جوں جوں ہم اُس وقت اُس زمانے سے دور ہٹتے جارہے ہیں، معاشرے کی بعض برائیوں کے ساتھ شیطان حملے کرتا رہتا ہے اس لئے جس فکر کا اظہار حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے آپ کی تعلیم کے مطابق ہی کوشش، تدبیر اور دعا سے اللہ تعالیٰ کا فضل ما نگتے ہوئے ان برائیوں سے بچنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو ہمیشہ کامل رکھے۔اس میں اس بارہ میں چند احادیث پیش کرتا ہوں۔حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ اللہ نے فرمایا : کہ اللہ عز وجل قیامت کے روز فرمائے گا اے ابن آدم ! میں بیمار تھا تو نے میری عیادت نہیں کی۔بندہ کہے گا۔اے میرے پتہ رب! میں تیری عیادت کیسے کرتا جبکہ تو ساری دنیا کا پروردگار ہے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔کیا تجھے پے نہیں چلا کہ میر افلاں بندہ بیمار تھا تو تو نے اس کی عیادت نہیں کی تھی۔کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ اگر تم اس کی عیادت کرتے تو مجھے اس کے پاس پاتے۔اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے کھانا طلب کیا تو تو نے مجھے کھانا نہیں دیا۔اس پر ابن آدم کہے گا۔اے میرے رب ! میں تجھے کیسے کھانا کھلا تا جب کہ تو تو رب العالمین ہے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔تجھے یاد نہیں کہ تجھ سے میرے فلاں بندے نے کھانا مانگا تھا تو تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا تھا۔کیا تجھے معلوم نہیں تھا کہ اگر تم اسے کھانا کھلاتے تو تم میرے حضور اس کا اجر پاتے۔اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا مگر تو نے مجھے پانی نہیں پلایا تھا۔ابن آدم کہے گا۔اے میرے رب ! میں تجھے کیسے پانی پلاتا جب کہ تو ہی سارے جہانوں کا رب ہے۔اس پر اللہ تعالی فرمائے گا۔تجھ سے میرے فلاں بندے نے پانی مانگا تھا۔مگر تم نے اسے پانی نہ پلایا۔اگر تم اس کو پانی پلاتے تو اس کا اجر میرے حضور پاتے۔(مسلم) كتاب البر والصلة باب فضل عيادة المريض) پھر روایت ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ نے فرمایا تمام مخلوقات اللہ کی عیال ہے۔پس اللہ تعالیٰ کو اپنے مخلوقات میں سے وہ شخص بہت پسند ہے جو اس کے عیال (مخلوق) کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے۔(مشكوة باب الشفقة والرحمة على الخلق