خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 301
$2003 301 خطبات مسرور ایک جوش ہے، لذت ہے۔تو اب ان لوگوں کے سوال کا جواب اس میں آگیا جو یہ کہتے ہیں کہ کتنی دفعہ پڑھنا چاہئے۔ایک تو اخلاص اور محبت دکھاؤ۔جس کو محبوب بنایا ہے اس کا نام لینے میں، اس کی تعریف کرنے میں، اس کی خوبیاں بیان کرنے میں، اس کے محاسن گنوانے میں،اس کا ذکر کر نے میں انسان گنتی کی قید تو نہیں لگاتا۔دنیاوی محبوبوں کے لئے بھی یہ طریق استعمال نہیں ہوتا۔یہ تو وہ محبوب ہے جس پر درود بھیجنے سے ہماری دنیا و آخرت دونوں سنور رہے ہیں۔اور پھر ایسی کیفیت طاری ہو جائے کہ جذبات اپنی انتہا کو پہنچ جائیں اور پھر اس ذکر سے ،اس درود بھیجنے سے ایک سرور اور ایک لطف آنا شروع ہو جائے، مزا آنا شروع ہو جائے اور دل یہ چاہے کہ انسان ہر وقت درود بھیجتا ر ہے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمْ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيْدٌ۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔یہ بھی ایک خط ہے جو تحریر فرمایا آپ نے کہ: آپ درود شریف کے پڑھنے میں بہت ہی متوجہ رہیں۔اور جیسا کہ کوئی اپنے پیارے کے لئے فی الحقیقت برکت چاہتا ہے۔ایسے ہی ذوق اور اخلاص سے حضرت نبی کریم ﷺے کے لئے برکت چاہیں اور بہت ہی تضرع سے چاہیں۔اور اس تضرع اور دعا میں کچھ بناوٹ نہ ہو۔بلکہ چاہئے کہ حضرت نبی کریم ﷺ سے سچی دوستی اور محبت ہو۔اور فی الحقیقت روح کی سچائی سے وہ برکتیں آنحضرت لے کے لئے مانگی جائیں کہ جو درود شریف میں مذکور ہیں اور ذاتی محبت کی یہ نشانی ہے کہ انسان کبھی نہ تھکے اور نہ کبھی ملول ہو۔اور نہ اغراض نفسانی کا دخل ہو۔اور محض اسی غرض کے لئے پڑھے کہ آنحضرت ﷺ پر خداوند کریم کے برکات ظاہر ہوں۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ: (مکتوبات احمدیه جلد اول صفحه ٢٤-٢٥ ایک مرتبہ میں سخت بیمار ہوا یہاں تک کہ تین مختلف وقتوں میں میرے وارثوں نے میرا آخری وقت سمجھ کر مسنون طریقہ پر مجھے تین مرتبہ سورۃ یسین سنائی۔جب تیسری مرتبہ سورۃ یسین سنائی گئی تو میں دیکھتا ہوں کہ بعض عزیز میرے جو اب وہ دنیا سے گزر بھی گئے ، دیواروں کے پیچھے بےاختیار روتے تھے اور مجھے ایک قسم کا سخت قولنج تھا اور بار بار دم بدم حاجت ہو کر خون آتا تھا۔سولہ