خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 302
302 $2003 خطبات مسرور دن برابر ایسی حالت رہی اور اسی بیماری میں میرے ساتھ ایک اور شخص بیمار ہوا تھا وہ آٹھویں دن راہی ملک بقا ہو گیا حالانکہ اس کے مرض کی شدت ایسی نہ تھی جیسی میری۔جب بیماری کو سولہواں دن چڑھا تو اس دن بکلی حالات پاس ظاہر ہو کر (یعنی بالکل مایوسی کی حالت طاری ہوگئی ) تیسری مرتبہ مجھے سورۃ یسین سنائی گئی اور تمام عزیزوں کے دل میں یہ پختہ یقین تھا کہ آج شام تک یہ قبر میں ہوگا۔تب ایسا ہوا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے مصائب سے نجات پانے کے لئے بعض اپنے نبیوں کو دعائیں سکھلائی تھیں مجھے بھی خدا نے الہام کر کے ایک دعا سکھلائی اور وہ یہ ہے: ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيْمِ۔اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّد “۔(تریاق القلوب روحانی خزائن جلد نمبر۱۵ نشان نمبر ۷۷ - تاریخ ۱۸۸۰ء) حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوئی تحریر فرماتے ہیں: ایک بار میں نے خود حضرت امام علیہ الصلوۃ والسلام سے سنا۔آپ فرماتے تھے کہ درود شریف کے طفیل اور اس کی کثرت سے یہ درجے خدا نے مجھے عطا کئے ہیں۔اور فرمایا کہ میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فیوض عجیب نوری شکل میں آنحضرت ﷺ کی طرف جاتے ہیں۔اور پھر وہاں جا کر آنحضرت ﷺ کے سینہ میں جذب ہو جاتے ہیں۔اور وہاں سے نکل کر ان کی لا انتہا نالیاں ہوتی ہیں۔اور بقدر حصہ رسدی ہر حقدار کو پہنچتی ہیں“۔( یعنی جو جو لوگ درود شریف بھیج رہے ہیں اور جس جس جوش سے بھیج رہے ہیں ان تک وہ اتنا حصہ پہنچتا رہتا ہے۔یقینا کوئی فیض بدوں و ساطت آنحضرت ﷺ دوسروں تک پہنچ ہی نہیں سکتا“۔یعنی اب کوئی بھی فیض جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل ہونے ہیں بغیر آنحضرت ﷺ کی وساطت کے کسی شخص تک نہیں پہنچ سکتے۔فرمایا: درود شریف کیا ہے؟ رسول اللہ ﷺ کے اس عرش کو حرکت دینا ہے جس سے یہ نور کی نالیاں نکلتی ہیں۔جو اللہ تعالیٰ کا فیض اور فضل حاصل کرنا چاہتا ہے۔اس کو لازم ہے کہ وہ کثرت سے درود شریف پڑھے تا کہ اس فیض میں حرکت پیدا ہو۔(اخبار الحكم جلد ۷ نمبر ۸ صفحه ۷ پرچه ۲۸/ فروری ۱۹۰۳ء) ایک دفعہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب کو اپنی بعض مشکلات کی وجہ سے دعا کی تلقین کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ: