خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 300
300 $2003 خطبات مسرور طور پر درود بھیجیں۔آپ کی ہمت وصدق و وفا کا کہاں تک اثر آپ کے پیروؤں پر ہوا تھا۔ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ ایک بد روش کو درست کرنا کس قدر مشکل ہے۔عادات راسخہ کو گنوانا کیسا محالات سے ہے۔یعنی جو عادات پکی ہو جائیں ان کو چھوڑنا بہت مشکل ہے۔لیکن ہمارے مقدس نبی ﷺ نے تو ہزاروں انسانوں کو درست کیا، جو حیوانوں سے بدتر تھے۔یعنی بعض ماؤں اور بہنوں میں حیوانوں نے کی طرح فرق نہ کرتے تھے۔یتیموں کا مال کھاتے تھے۔مُردوں کا مال کھاتے تھے۔بعض ستارہ پرست تھے۔بعض دہریہ تھے۔بعض عناصر پرست تھے۔جزیرہ عرب کیا تھا ایک مجموعہ مذاہب اپنے اندر رکھتا تھا۔اس سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ قرآن کریم ایک قسم کی تعلیم اپنے اندر رکھتا ہے، ہر ایک غلط عقیدہ یا بری تعلیم جو دنیا میں ممکن ہے، اس کے استحصال کے لئے کافی تعلیم اس میں موجود ہے۔یہ اللہ تعالی کی عمیق حکمت اور تصرف ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : انسان تو دراصل بندہ یعنی غلام ہے۔غلام کا کام یہ ہوتا ہے کہ مالک جو حکم کرے، اُسے قبول کرے۔اسی طرح اگر تم چاہتے ہو کہ آنحضرت ﷺ کے فیض حاصل کرو تو ضرور ہے کہ اس کیلم ہو جاؤ۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ قُل لِعِبَادِيَ الَّذِيْنَ انر و اعلی انفسهم ، اس جگہ بندوں سے مراد غلام ہی ہیں نہ کہ مخلوق۔رسول کریم ﷺ کے بندہ ہونے کے واسطے ضروری ہے کہ 66 آپ پر درود پڑھو اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کر وہ سب حکموں پر کار بندر ہو۔“ البدر - جلد ۲، نمبر ١٤ - بتاريخ ٢٤ / اپریل ۱۹۰۳ ء- صفحه (۱۰۹ بعض دفعہ یہ سوال اٹھتا ہے کہ کتنی دفعہ درود پڑھنا چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ایک خط میں فرماتے ہیں: کسی تعداد کی پابندی ضروری نہیں۔اخلاص اور محبت اور حضور اور تضرع سے پڑھنا چاہئے۔اور اس وقت تک پڑھتے رہیں جب تک ایک حالت رقت اور بے خودی اور تاثر کی پیدا ہو جائے۔اور سینے میں انشراح اور ذوق پایا جائے“۔نیز آپ نے فرمایا : اس قدر پڑھا جائے کہ کیفیت صلوۃ سے دل مملو ہو جائے اور ایک انشراح اور لذت اور حیات قلب پیدا ہو جائے۔(مکتوبات حصہ اول صفحہ ۲۶) محسوس ہو کہ دل میں