خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 285
285 $2003 خطبات مسرور اسلام نام ہے۔اسی اسلام کا زندہ کرنا خدا تعالیٰ اب چاہتا ہے اور ضرور تھا کہ وہ اس مہم عظیم کے رو براہ کرنے کے لئے ایک عظیم الشان کارخانہ جو ہر ایک پہلو سے مؤثر ہوا اپنی طرف سے قائم کرتا۔سواس حکیم وقد مر نے اس عاجز کو اصلاح خلائق کے لئے بھیج کر ایسا ہی کیا۔(فتح اسلام روحانی خزائن جلد ۳صفحه ۱۰ تا ۱۳) پھر آپ فرماتے ہیں : ” جب تک انسان صدق وصفا کے ساتھ خدا تعالیٰ کا بندہ نہ ہوگا تب تک کوئی درجہ ملنا مشکل ہے۔جب ابراہیم کی نسبت خدا تعالیٰ نے شہادت دی ﴿وَإِبْرَاهِيْمَ الَّذِي وفى (النجم: ۳۸) کہ ابراہیم و شخص ہے جس نے اپنی بات کو پورا کیا۔تو اس طرح سے اپنے دل کو غیر سے پاک کرنا اور محبت الہی سے بھر نا خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق چلنا اور جیسے ظل اصل کا تابع ہوتا ہے ویسے ہی تابع ہونا کہ اس کی اور خدا کی مرضی ایک ہو، کوئی فرق نہ ہو۔یہ سب باتیں دعا سے حاصل ہوتی ہیں۔نماز اصل میں دعا کے لئے ہے کہ ہر ایک مقام پر دعا کرے لیکن جو شخص سویا ہوا نماز ادا کرتا ہے کہ اسے اس کی خبر ہی نہیں ہوتی تو وہ اصل میں نماز نہیں۔پس چاہئے کہ ادائیگی نماز میں انسان سست نہ ہو اور نہ غافل ہو۔ہماری جماعت اگر جماعت بننا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ ایک موت اختیار کرے۔نفسانی امور اور نفسانی اغراض سے بچے اور اللہ تعالیٰ کو سب شئے پر مقدم رکھے۔( البدر ١٦ نومبر ۱۹۰۳ء ، ملفوظات جلد۔سوم صفحه ٤٥٧ - ٤٥٨) پھر آپ فرماتے ہیں: ”اے خدا کے طالب بندو! کان کھولو اور سنو کہ یقین جیسی کوئی چیز نہیں۔یقین ہی ہے جو گناہ سے چھڑاتا ہے۔یقین ہی ہے جو نیکی کرنے کی قوت دیتا ہے۔یقین ہی ہے جو خدا کا عاشق صادق بناتا ہے۔کیا تم گناہ کو بغیر یقین کے چھوڑ سکتے ہو۔کیا تم جذبات نفس سے بغیر یقینی تجلی کے رک سکتے ہو۔کیا تم بغیر یقین کے کوئی تسلی پاسکتے ہو۔کیا تم بغیر یقین کے کوئی سچی تبدیلی پیدا کر سکتے ہو۔کیا تم بغیر یقین کے کوئی کچی خوشحالی حاصل کر سکتے ہو۔کیا آسمان کے نیچے کوئی ایسا کفارہ اور ایسا فدیہ ہے جو تم سے گناہ ترک کرا سکے۔تم یا درکھو کہ بغیر یقین کے تم تاریک زندگی سے باہر نہیں آسکتے اور نہ روح القدس تمہیں مل سکتا ہے۔مبارک وہ جو یقین رکھتے ہیں کیونکہ وہی خدا کو دیکھیں گے۔مبارک وہ جو شبہات اور شکوک سے نجات پاگئے ہیں۔کیونکہ وہی گناہ سے