خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 284
284 $2003 خطبات مسرور ایک حدیث میں آتا ہے۔معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا۔میں نے پوچھا ”آپ کو ہمارے رب نے کیا پیغام دے کر بھیجا ہے اور کیا دین لائے ہیں؟“۔آپ نے فرمایا: ”خدا نے مجھے الله دین اسلام دے کر بھیجا ہے۔میں نے پوچھا ” دین اسلام کیا ہے۔حضور ﷺ نے جواب دیا: اسلام یہ ہے کہ تم اپنی پوری ذات کو اللہ کے حوالے کر دو اور دوسرے معبودوں سے دست کش ہو جاؤ۔اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو۔“ (الاستيعاب) پھر ایک روایت یہ ہے۔حضرت سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! مجھے اسلام کی کوئی ایسی بات بتائیے جس کے بعد کسی اور سے پوچھنے کی صلى الله ضرورت نہ رہے یعنی میری پوری تسلی ہو جائے۔حضور ﷺ نے جواب دیا تم یہ کہو کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا ، پھر اس پر پکے ہو جاؤ اور استقلال کے ساتھ قائم رہو۔صحابہ کا کیا فعل تھا۔ایک حدیث میں یہ واقعہ ہے۔ابتداء میں جب شراب اسلام میں حرام نہیں تھی۔صحابہ بھی شراب پی لیا کرتے تھے اور اکثر نشہ بھی ہو جایا کرتا تھا۔لیکن اس حالت میں بھی ان پر دین اور دین کی عزت کا غلبہ رہتا تھا۔یہ فکر تھی کہ سب چیزوں پر دین سب سے زیادہ مقدم ہے چنانچہ جب شراب کی حرمت کا بھی حکم آیا ہے تو جو لوگ مجلس میں بیٹھے شراب پی رہے تھے بعض ان میں سے نشہ میں بھی تھے۔جب انہوں نے اس کی حرمت کا حکم سنا تو فورا تعمیل کی۔اس بارہ میں حدیث جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ابوطلحہ انصاری، ابو عبیدہ بن جراح اور ابی بن کعب کو کھجور کی شراب پلا رہا تھا۔کسی آنے والے نے بتایا کہ شراب حرام ہوگئی ہے۔یہ سُن کر ابوطلحہ نے کہا کہ انس اُٹھو اور شراب کے مٹکوں کو توڑ ڈالو۔انس کہتے ہیں کہ میں اٹھا اور پتھر کی کونڈی کا نچلا حصہ مٹکوں پر دے مارا اور وہ ٹوٹ گئے۔(بخاری کتاب اخبار الحاد باب ماجاء في اجازة خبر الواحد الصدوق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے۔وہ کیا ہے؟ ہمارا اسی راہ میں مرنا۔یہی موت ہے جس پر اسلام کی زندگی، مسلمانوں کی زندگی اور زندہ خدا کی تجلی موقوف ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کا دوسرے لفظوں میں