خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 286 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 286

$2003 286 خطبات مسرور نجات پائیں گے۔مبارک تم جبکہ تمہیں یقین کی دولت دی جائے کہ اس کے بعد تمہارے گناہ کا خاتمہ ہوگا۔گناہ اور یقین دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔کیا تم ایسے سوراخ میں ہاتھ ڈال سکتے ہو جس میں تم ایک سخت زہریلے سانپ کو دیکھ رہے ہو۔کیا تم ایسی جگہ کھڑے رہ سکتے ہو جس جگہ کسی کو وہ آتش فشاں سے پتھر برستے ہیں یا بجلی پڑتی ہے یا ایک خونخوار شیر کے حملہ کرنے کی جگہ ہے یا ایک ایسی جگہ ہے جہاں ایک مہلک طاعون نسل انسانی کو معدوم کر رہی ہے۔پھر اگر تمہیں خدا پر ایسا ہی یقین ہے جیسا کہ سانپ پر یا بجلی پر یا شیر پر یا طاعون پر تو ممکن نہیں کہ اس کے مقابل پر تم نافرمانی کر کے سزا کی راہ اختیار کر سکو۔یا صدق و وفا کا اس سے تعلق تو ڈسکو۔(کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ١٩ صفحه ٦٧ - ٦٦) آپ نے فرمایا: ”خوف اور محبت اور قدردانی کی جڑ معرفتِ کاملہ ہے۔پس جس کو معرفتِ کاملہ دی گئی ، اُس کو خوف اور محبت بھی کامل دی گئی اور جس کو خوف اور محبت کامل دی گئی ، اُس کو ہر ایک گناہ سے جو بیا کی سے پیدا ہوتا ہے نجات دی گئی۔پس ہم اس نجات کے لئے نہ کسی خون کے محتاج ہیں اور نہ کسی صلیب کے حاجتمند اور نہ کسی کفارہ کی ہمیں ضرورت ہے۔بلکہ ہم صرف ایک قربانی کے محتاج ہیں جو اپنے نفس کی قربانی ہے جس کی ضرورت کو ہماری فطرت محسوس کر رہی ہے۔ایسی قربانی کا دوسرے لفظوں میں نام اسلام ہے۔اسلام کے معنے ہیں ذبح ہونے کے لئے گردن آگے رکھ دینا۔یعنی کامل رضا کے ساتھ اپنی رُوح کو خدا کے آستانہ پر رکھ دینا۔یہ پیارا نام تمام شریعت کی روح اور تمام احکام کی جان ہے۔ذبح ہونے کے لئے اپنی دلی خوشی اور رضا سے گردن آگے رکھ دینا کامل محبت اور کامل عشق کو چاہتا ہے اور کامل محبت کامل معرفت کو چاہتی ہے۔پس اسلام کا لفظ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حقیقی قربانی کے لئے کامل معرفت اور کامل محبت کی ضرورت ہے نہ کسی اور چیز کی ضرورت۔“ (لیکچر لاهور روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۵۱ تا ۱۰۲) اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔