خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 283 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 283

283 $2003 خطبات مسرور ہے: بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ﴾ (البقرہ : ۱۱۳)۔نہیں نہیں، سچ یہ ہے کہ جو بھی اپنا آپ خدا کے سپر د کر دے اور وہ احسان کرنے والا ہو تو اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے۔اور اُن (لوگوں) پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔پھر فرمایا وَمَنْ أَحْسَنُ دِينَا مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ وَّاتَّبَعَ مِلَّةَ إبْرَاهِيْمَ حَنِيْفًا وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلًا) (النساء : ۱۲۶ )۔اور دین میں اس سے بہتر کون ہوسکتا ہے جو اپنی تمام تر توجہ اللہ کی خاطر وقف کر دے اور وہ احسان کرنے والا ہو اور اس نے ابراہیم حنیف کی ملت کی پیروی کی ہو اور اللہ نے ابراہیم کو دوست بنالیا تھا۔اس آیت میں اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ بیان کر دیا گیا ہے۔یعنی مکمل فرمانبرداری اور اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی کرنے ، اس کے دین کی خاطر اپنے آپ کو وقف کرنے اور احسان کرنے والا ہو۔تو کیونکہ وہ اللہ کی خاطر احسان کرنے والا ہو گا اس لئے کسی کو یہ خیال نہیں آنا چاہئے کہ اگر ہر وقت وہ دین کی طرف اور دین کی خدمت کی طرف رہا تو اس کا مال یا اولا دضائع ہو جائے گی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ جو سب سے بڑھ کر بدلہ دینے والا ہے، اجر دینے والا ہے، اس کے اس فعل کا خود اجر دے گا۔جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا گیا ہے کہ خود اس کے جان ، مال ، آبرو کی حفاظت کرے گا۔ایسے لوگوں کو ، ان کی نسلوں کو بھی اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: بلی مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ ﴾ (البقره : ۱۱۳) یعنی جو شخص اپنے وجود کو خدا کے آگے رکھ دے اور اپنی زندگی اس کی راہوں میں وقف کرے اور نیکی کرنے میں سرگرم ہو۔سو وہ چشمہ قرب الہی سے اپنا اجر پائے گا۔اور اُن لوگوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم۔یعنی جو شخص اپنے تمام قومی کو خدا کی راہ میں لگادے اور خالص خدا کے لئے اس کا قول اور فعل اور حرکت اور سکون اور تمام زندگی ہو جائے اور حقیقی نیکی بجالانے میں سرگرم رہے۔سو اس کو خدا اپنے پاس سے اجر دے گا اور خوف اور خون سے نجات بخشے گا۔“ (سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔روحانی خزائن جلد ١٢ صفحه ٣٤٤)