خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 257 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 257

257 $2003 خطبات مسرور خلافت قائم ہے، ایک مضبوط کڑا آپ کے ہاتھ میں ہے جس کا ٹوٹنا ممکن نہیں۔لیکن یا درکھیں کہ یہ کڑا تو ٹوٹنے والا نہیں لیکن اگر آپ نے اپنے ہاتھ اگر ذرا ڈھیلے کئے تو آپ کے ٹوٹنے کے امکان پیدا ہو سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس سے بچائے۔اس لئے اس حکم کو ہمیشہ یا درکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھو اور نظام جماعت سے ہمیشہ چھٹے رہو۔کیونکہ اب اس کے بغیر آپ کی بقا نہیں۔یا درکھیں شیطان راستہ میں بیٹھا ہے۔ہمیشہ آپ کو ورغلاتا رہے گا لیکن اس آیت کو ہمیشہ مدنظر رکھیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَايُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا ادْخُلُوْا فِي السّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّيْطَنِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ (سورة البقره : ۲۰۹) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم سب کے سب اطاعت ( کے دائرہ ) میں داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے نہ چلو۔یقیناً وہ تمہارا کھلا کھلا دشمن ہے۔حضرت مصلح موعود اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ : ”اے مومنو! تم سارے کے سارے پورے طور پر اسلام میں داخل ہو جاؤ اور اس کی اطاعت کا جوا اپنی گردنوں پر کامل طور پر رکھ لو۔یا اے مسلمانو! تم اطاعت اور فرمانبرداری کی ساری راہیں اختیار کرو اور کوئی بھی حکم ترک نہ کرو۔اس آیت میں كَافَّةً، الَّذِينَ آمَنُوا کا بھی حال ہو سکتا ہے اور اسکیم کا بھی۔پہلی صورت میں اس کے یہ معنے ہیں کہ تم سب کے سب اسلام میں داخل ہو جاؤ۔یعنی تمہارا کوئی فرد بھی ایسا نہیں ہونا چاہئے جو اطاعت اور فرمانبرداری کے مقام پر کھڑا نہ ہو۔یا جس میں بغاوت اور نشوز کے آثار پائے جاتے ہوں۔دوسری صورت میں اس کے یہ معنے ہیں کہ تم پورے کا پورا اسلام قبول کرو۔یعنی اس کا کوئی حکم ایسا نہ ہو جس پر تمہارا عمل نہ ہو۔یہ قربانی ہے جو اللہ تعالیٰ ہر مومن سے چاہتا ہے کہ انسان اپنی تمام آرزوؤں تمام خواہشوں اور تمام امنگوں کو خدا تعالیٰ کے لئے قربان کر دے اور ایسا نہ کرے کہ جو اپنی مرضی ہو وہ تو کرے اور جو نہ ہو وہ نہ کرے۔یعنی اگر شریعت اس کو حق دلاتی ہو تو کہے میں شریعت پر چلتا ہوں اور اسی کے ماتحت فیصلہ ہونا چاہئے۔لیکن اگر شریعت اس سے کچھ دلوائے اور ملکی قانون نہ دلوائے تو کہے کہ ملکی قانون کی رو سے فیصلہ ہونا چاہئے۔یہ طریق حقیقی ایمان کے بالکل منافی ہے۔