خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 258
258 $2003 خطبات مسرور چونکہ پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ مسلمانوں میں بعض ایسے کمزور لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو قومی ترقی اور رفاہیت کے دور میں فتنہ و فساد پر اتر آتے ہیں۔اور وہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری پہلی حالت کیا تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں کیا کچھ عطا کر دیا۔اس لئے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو نصیحت فرماتا ہے کہ بے شک تم مومن کہلاتے ہومگر تمہیں یاد رکھنا چاہئے کہ صرف مونہہ سے اپنے آپ کو مومن کہنا تمہیں نجات کا مستحق نہیں بنا سکتا۔تم اگر نجات حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کا طریق یہ ہے کہ اول ہر قسم کی منافقت اور بے ایمانی کو اپنے اندر سے دور کرنے کی کوشش کرو۔اور قوم کے ہر فر دکو ایمان اور اطاعت کی مضبوط چٹان پر قائم کرو۔دوم صرف چندا حکام پر عمل کر کے خوش نہ ہو جاؤ۔بلکہ خدا تعالیٰ کے تمام احکام پر عمل بجالاؤ۔اور صفات الہیہ کا کامل مظہر بننے کی کوشش کرو۔“ (تفسير كبير جلد ۲ صفحه (۴۵۷۴۵۶ یہاں ان ممالک میں جہاں اسلامی قوانین لاگو نہیں، یہ بات دیکھنے میں آتی ہے جیسا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ یہ نہ ہو کہ تمہارے مدنظر صرف اور صرف اپنا ذاتی مفاد ہو۔لڑائی جھگڑے کی صورت میں جہاں دیکھتے ہیں کہ شریعت بہتر حق دلا سکتی ہے تو فوراً جماعت میں درخواست دیتے ہیں کہ ہمارا فیصلہ جماعت کرے۔اور جہاں ملکی قانون کے تحت فائدہ نظر آتا ہو تو بغیر جماعت سے پو چھے ملکی عدالتوں میں چلے جاتے ہیں اور جماعت کی بات کسی طرح ماننے پر راضی نہیں ہوتے کیونکہ اس وقت ان کے سر پر شیطان سوار ہوتا ہے اور اگر ملکی قانون ان کے خلاف فیصلہ دے دے تو پھر واپس نظام جماعت کے پاس دوڑے آتے ہیں کہ ہم غلط انہی کی وجہ سے اپنے جھگڑے کا فیصلہ کروانے کے لئے ملکی عدالت میں چلے گئے تھے، ہمیں معاف کر دیا جائے۔اب جو نظام کہے گا ہمیں قابل قبول ہوگا۔تو یا درکھیں اب واپس آنے کا مقصد نظام جماعت کی اطاعت اور محبت نہیں ہے بلکہ یہ کوشش ہے کہ شاید ہمارا داؤ چل جائے اور صدر یا امیر یا قاضی کو کسی طرح ہم قائل کر لیں اور اپنے حق میں فیصلہ کروالیں۔تو اس سلسلہ میں یا درکھنا چاہئے کہ جب ایک دفعہ نظام جماعت چھوڑ کر آپ اپنے فیصلوں کے لئے ملکی عدالتوں میں چلے گئے اور بغیر اجازت نظام جماعت کے چلے گئے یا نظام پر دباؤ ڈالا کہ ہم نے جماعت کے اندر فیصلہ نہیں کروانا ہمیں بہر حال اجازت دی جائے کہ ہم ملکی قانون -