خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 256 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 256

خطبات مس $2003 256 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا نظام کی کامیابی کا اور ترقی کا انحصار اس نظام سے منسلک لوگوں اور اس نظام کے قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کرنے پر ہوتا ہے۔چنانچہ دیکھ لیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں قانون کی پابندی کی شرح تیسری دنیای ترقی پذیر ممالک سے بہت زیادہ ہے اور ان ممالک کی ترقی کی ایک بہت بڑی وجہ یہی ہے کہ عموماً چاہے بڑا آدمی ہو یا افسر ہو اگر ایک دفعہ اس کی غلطی باہر نکل گئی تو پھر اتنا شور پڑتا ہے کہ اس کو اس غلطی کے نتائج بہر حال بھگتنے پڑتے ہیں اور اپنی اس غلطی کی جو بھی سزا ہے اس کو برداشت کرنی پڑتی ہے۔جبکہ غریب ممالک میں یا آج کل جو ٹرم (Term) ہے تیسری دنیا کے ممالک میں آپ دیکھیں گے کہ اگر کوئی غلط بات ہے تو اس پر اس حد تک پردہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ احساس ندامت اور شرمندگی بھی ختم ہو جاتا ہے اور نتیجہ ایسی باتیں ہی پھر ملکی ترقی میں روک بنتی ہیں۔تو اگر دنیاوی نظام میں قانون کی پابندی کی اس حد تک، اس شدت سے ضرورت ہے تو روحانی نظام جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اترا ہوا نظام ہے اس میں کس حد تک اس پابندی کی ضرورت ہوگی اور کس حد تک اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہوگی۔یادرکھیں کہ دینی اور روحانی نظام چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسولوں کے ذریعہ اس دنیا میں قائم ہوتے ہیں اس لئے بہر حال انہی اصولوں کے مطابق چلنا ہو گا جو خدا تعالیٰ نے ہمیں بتائے ہیں اور نبی کے ذریعہ، انبیاء کے ذریعہ پہنچے اور اسلام میں آنحضرت ﷺ کے ذریعہ یہ نظام ہم تک پہنچا۔اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا حسان ہے احمد یوں پر کہ نہ صرف ہادی کامل مﷺ کی امت میں شامل ہونے کی توفیق ملی بلکہ اس زمانے میں مسیح موعود اور مہدی کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق بھی اس نے عطا فرمائی جس میں ایک نظام قائم ہے، ایک نظام