خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 252 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 252

252 $2003 خطبات مسرور لا کر سارے گناہوں کو معاف شدہ سمجھتا ہے اسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ دعا کرتار ہے۔اور ایک ہند و جو یقین کرتا ہے کہ تو بہ قبول ہی نہیں ہوتی اور تناسخ کے چکر سے رہائی ہی نہیں ہے وہ کیوں دعا کے واسطے ٹکریں مارتا رہے گا۔وہ تو یقیناً سمجھتا ہے کہ کتے ، بلے ، بندر، سور بننے سے چارہ ہی نہیں ہے۔اس لئے یا درکھو کہ یہ اسلام کا فخر اور ناز ہے کہ اس میں دُعا کی تعلیم ہے۔اس میں کبھی ستی نہ کرو اور نہ اس سے تھکو“۔( الحكم ١٧/ جنوری ٠٥ ۱۹۰۵ ، ملفوظات جلد ۷ صفحه ٢٦٦-٢٦٧ معاشرے میں آج کل بہت سارے جھگڑوں کی وجہ طبیعتوں میں بے چینی اور مایوسی کی وجہ سے ہوتی ہے جو حالات کی وجہ سے پیدا ہوتی رہتی ہے۔اور یہ مایوسی اور بے چینی اس لئے بھی زیادہ ہوگئی ہے کہ دنیا داری اور مادیت پرستی اور دنیاوی چیزوں کے پیچھے دوڑنے کی طرف زیادہ توجہ پیدا ہو گئی ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات پر تو کل کم ہو گیا ہے اور دنیاوی ذرائع پر انحصار زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔اس لئے اگر اپنی زندگیوں کو خوشگوار بنانا ہے تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا کہ دعاؤں پر زور دیں اور اسی سے آپ کی دنیا اور عاقبت دونوں سنور میں گی۔اور یہی تو کل جو ہے آپ کا آپ کی زندگی میں بھی اور آپ کی نسلوں میں بھی آپ کے کام آئے گا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”اصل میں تو کل ہی ایک ایسی چیز ہے کہ انسان کو کامیاب و بامراد بنا دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ﴾ (الطلاق : (۴) جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو کافی ہو جاتا ہے بشرطیکہ سچے دل سے تو کل کے اصل مفہوم کو سمجھ کر صدق دل سے قدم رکھنے والا ہو اور صبر کرنے والا اور مستقل مزاج ہو، مشکلات سے ڈر کر پیچھے نہ ہٹ جاوئے“۔اور اس کے کام بھی ایسے ہی ہیں۔پس انسان کو لازم ہے کہ اس کا غم نہ کرے اور آخرت کا فکر زیادہ رکھے۔اگر دین کے غم انسان پر غالب آجاویں تو دنیا کے کاروبار کا خود خدا متکفل ہو جاتا ہے۔(الحكم ١٦ مئى ١٩٠٨ء، ملفوظات جلد دهم صفحه ٢٥٢ - مطبوعه لندن ایک حدیث ہے جس میں بہت ہی پیاری ایک دعا سکھائی گئی ہے۔حضرت ابن