خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 251 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 251

251 $2003 خطبات مسرور تمہارا باپ کافی پیسے والا ہے، امیر ہے اس لئے مجھے اتنی رقم اس سے لے کر دو تا کہ میں کاروبار کروں۔اور اس میں لڑکے کے گھر والے بھائی بہن وغیرہ بھی شامل ہوتے ہیں جو اس کو اکساتے رہتے ہیں کہ تم اس رقم کا مطالبہ کرو۔تو گویا اب لڑکی کے پورے سسرال کو پالنا اس کی ذمہ داری ہو جاتی ہے۔تو ایسے لوگ جو اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں وہ ہمیشہ وہی ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف نہ جھکنے والے اور اس پر تو کل نہ کرنے والے اور اس کے احکامات اور تعلیم پر عمل نہ کرنے والے ہوتے ہیں۔جو اللہ تعالیٰ کی عبادات، جو حق ہے عبادت کرنے کا اس طرح نہ کرنے والے ہوں ان میں کبھی تو کل پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔اور پھر جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ جب عائلی معاملات میں ایسے حالات پیدا ہو جائیں تو ان حالات میں بھی عورتوں پر ہی ظلم یہ ہوتا ہے کہ اگر مردوں کی ڈیمانڈ (Demand) پوری نہ کی جائیں تو ان کو گھر سے نکال دیا جاتا ہے اور بڑی تکلیف دہ صورتحال ہوتی ہے۔اور یہ ایسی صورت حال ہے جو سامنے آتی ہیں جن کا میں ذکر کر رہا ہوں۔تو اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور ایسے گھروں کو عقل اور سمجھ سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر گھر ، ہر احمدی گھرانہ پیار اور محبت اور الفت کا نمونہ دکھانے والا ہو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”اصلاح نفس کے لئے اور خاتمہ بالخیر ہونے کے لئے نیکیوں کی توفیق پانے کے واسطے دوسرا پہلو دعا کا ہے۔اس میں جس قدر تو کل اور یقین اللہ تعالیٰ پر کرے گا اور اس راہ میں نہ تھکنے والا قدم رکھے گا اسی قدر عمدہ نتائج اور ثمرات ملیں گے۔تمام مشکلات دور ہو جائیں گی اور دعا کرنے والا تقویٰ کے اعلی محل پر پہنچ جائے گا۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کسی کو پاک نہ کرے کوئی پاک نہیں ہوسکتا۔نفسانی جذبات پر محض خدا تعالیٰ کے فضل اور جذبہ ہی سے موت آتی ہے اور یہ فضل اور جذ بہ دعا ہی سے پیدا ہوتا ہے اور یہ طاقت صرف دعا ہی سے ملتی ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ مسلمانوں اور خصوصاً ہماری جماعت کو ہرگز ہرگز دعا کی بے قدری نہیں کرنی چاہئے کیونکہ یہی دعا تو ہے جس پر مسلمانوں کو ناز کرنا چاہئے۔اور دوسرے مذاہب کے آگے تو دعا کے لئے گندے پتھر پڑے ہوئے ہیں اور وہ توجہ نہیں کر سکتے۔ایک عیسائی جو خونِ مسیح پر ایمان