خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 240
خطبات مسرور 240 $2003 پڑھتا ہوں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَتُهُ زَادَتْهُمْ إِيْمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ (سورة الانفال : ٣) ترجمہ اس کا یہ ہے کہ مومن صرف وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اُس کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ ان کو ایمان میں بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر ہی تو کل کرتے ہیں۔تو کل کی اعلیٰ ترین مثالیں تو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے ہی رقم فرمائی ہیں اور کیوں نہ ہو، آپ ہی تو انسان کامل تھے۔اور ساتھ ہی امت کو بھی سبق دے دیا کہ میری پیروی کرو گے، خدا سے دل لگاؤ گے، اس کی ذات پر ایمان اور یقین پیدا کرو گے تو تمہیں بھی ضائع نہیں کرے گا۔اور اپنے پر تو کل کرنے کے نتیجہ میں وہ تمہیں بھی اپنے حصار عافیت میں لے لے گا۔آنحضرت ﷺ کے توکل کے بارہ میں بعض احادیث میں یہاں بیان کرتا ہوں۔یہ بچپن سے ہم سنتے آرہے ہیں لیکن جب بھی پڑھیں ایمان میں ایک نئی تازگی پیدا ہوتی ہے اور ایمان مزید بڑھتا ہے۔وہ واقعہ یاد کریں جب سفر طائف سے واپسی پر رسول اللہ نے کچھ روز مخلہ میں قیام فرمایا۔زید بن حارثہ نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ اب آپ مکہ میں کیسے داخل ہوں گے جبکہ وہ آپ کو نکال چکے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے کس شان سے ، تو کل سے جواب دیا کہ اے زید تم دیکھو گے کہ اللہ ضرور کوئی راہ نکال دے گا اور اللہ اپنے دین کا مددگار ہے۔وہ اپنے نبی کو غالب کر کے رہے گا۔چنانچہ نبی کریم نے سرداران قریش کو پیغام بھجوائے کہ آپ کو اپنی پناہ میں لے کر مکہ میں داخل کرنے کا انتظام کریں۔کئی سرداروں نے انکار کر دیا بالآخر مکہ کے ایک شریف سردار مطعم بن عدی نے آپ کو اپنی پناہ میں مکہ میں داخل کرنے کا اعلان کیا۔پھر آخر کار جب مظالم حد سے زیادہ بڑھ گئے اور مکہ سے ہجرت کا وقت آیا تو کمال وقار سے آپ نے وہاں سے ہجرت فرمائی۔غار میں پناہ کے