خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 241
$2003 241 خطبات مسرور وقت دشمن جب سر پر آن پہنچا تو پھر بھی کس شان سے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اس کے وعدوں پر یقین کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔حضرت ابو بکر اس بارہ میں روایت کرتے ہیں کہ میں رسول کریم کے ساتھ غار میں تھا۔میں نے اپنا سر اٹھا کر نظر کی تو تعاقب کرنے والوں کے پاؤں دیکھے۔اس پر میں نے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اگر کوئی نظر نیچے کرے گا تو ہمیں دیکھ لے گا۔آپ نے فرمایا : چپ اے ابوبکر ! ہم دو ہیں اور ہمارے ساتھ تیسرا خدا ہے۔تو یہ ہے وہ تو کل کا اعلیٰ معیار جو صرف اور صرف رسول کریم ﷺ کی زندگی میں ہمیں نظر آتے ہیں۔اور پھر آپ دیکھیں جب غار سے نکل کر سفر شروع کیا تو کیا شان استغناتھی اور کس قد ر اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل حضرت ابو بکر کی روایت ہے کہ سفر ہجرت کے دوران جب سراقہ گھوڑے پر سوار تعاقب کرتے ہوئے ہمارے قریب پہنچ گیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اب تو پکڑنے والے بالکل سر پر آپہنچے اور میں اپنے لئے نہیں بلکہ آپ کی خاطر فکرمند ہوں۔آپ نے فرمایا لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا۔کرم نہ کر واللہ ہمارے ساتھ ہے۔چنانچہ اسی وقت آپ کی دعا سے سراقہ کا گھوڑ از مین میں جنس گیا اور وہ آپ کی خدمت میں امان کا طالب ہوا۔اس وقت آپ نے سراقہ کے حق میں یہ عظیم الشان پیشگوئی فرمائی کہ سراقہ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب کسری کے کنگن تمہارے ہاتھوں میں پہنائے جائیں گے۔اور یہ پیشگوئی بھی بڑی شان سے بعد میں پوری ہوئی۔پھر وہ شان بھی دیکھیں جب آپ دشمن سے صرف ایک فٹ کے فاصلہ پر تھے اور نہتے تھے اور دشمن تلوار تانے کھڑا تھا لیکن کوئی خوف نہیں۔کیسا ایمان، کیسا یقین اور کیسا تو کل ہے خدا کی ذات پر۔جابر کہتے ہیں کہ غزوہ ذات الرقاع میں ہم حضور کے ساتھ تھے۔ایک دن ہم ایک سایہ دار درخت کے پاس پہنچے۔ہم نے آنحضرت ﷺ کے آرام کے لئے اس کو منتخب کیا۔اچانک ایک مشرک وہاں آن پہنچا۔جب آپ کی تلوار درخت سے لٹک رہی تھی اس نے تلوار سونت لی اور کہنے لگا کیا تم مجھ سے ڈرتے ہو یا نہیں۔حضور نے اسے جواب دیا نہیں۔اس نے پھر کہا مجھ سے تمہیں کون