خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 239 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 239

239 $2003 خطبات مسرور کرتے ہیں سنتا ہے۔العلیم سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نیتوں کو بھی جانتا ہے۔پس وہ ان سے ایسا مواخذہ کرے گا جس کے وہ مستحق ہیں اور ان کی تدابیر کو ان پر الٹادے گا۔(تفسیر روح المعانی جلد ٦ صفحه (٢٧) تو یہاں اس سے ایک بات تو یہ بھی واضح ہوگئی کہ اسلام پر جو یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ جنگجو قسم کا مذہب ہے، اس اعتراض کو بھی یہاں دور کر دیا گیا ہے۔کہ اگر دشمن اپنی کمزوری کی وجہ سے یا کسی چال کی وجہ سے صلح کرنا چاہے تو تم بھی اللہ کی خاطر صلح کرلو۔کیونکہ اسلام کا تو مقصد ہی امن قائم کرنا ہے۔پھر یہ نہیں ہوگا کہ ان کو مفتوح کر کے یا مسلمان بنانے کے بعد ہی صلح کی بنیاد ڈالنی ہے بلکہ اگر ان کی طرف سے صلح کا ہاتھ بڑھتا ہے تو بھی صلح کا ہاتھ بڑھا، مسلمانوں کو یہی حکم ہے۔پھر یہ نہیں سوچنا کہ دشمن چال چل رہا ہے اور اس وقت چاہتا ہے تا کہ اپنی طاقت اکٹھی کرے اور پھر جنگ کے سامان میسر آئیں اور پھر حملہ کرے۔تو یہ بات اس سے واضح ہوگئی، ظاہر ہو گیا کہ مسلمان اس زمانہ میں بھی صرف اپنے آپ کو بچانے کے لئے جنگ لڑ رہے تھے۔تو اب جب دشمن صلح کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے تو قطع نظر اس کے کہ اس کا اپنا طاقت جمع کر کے دوبارہ حملہ کرنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے تم صلح کرو اور اللہ پر توکل کرو خدا خود سنبھال لے گا۔تو ایک تو یہ بھی اس سے رد ہوا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آیت کے پہلے حصے کی تشریح کرتے ہوئے یعنی اگر وہ صلح کریں تو تم بھی صلح کر لو۔فرماتے ہیں کہ اصل میں مومن کو بھی تبلیغ دین میں حفظ مراتب کا خیال رکھنا چاہئے۔جہاں نرمی کا موقع ہو وہاں سختی اور درشتی نہ کرے اور جہاں بحر سختی کرنے کے کام ہوتا نظر نہ آوے وہاں نرمی کرنا بھی گناہ ہے۔ایک جگہ اس ضمن میں آپ نے فرمایا ہے کہ باوجود فرعون کے سخت کفر کے حضرت موسیٰ کو اس سے نرمی سے بات کرنے کا حکم تھا۔تو دعوت الی اللہ میں بھی یہ اصول ہر احمدی کو مدنظر رکھنا چاہئے۔یہ و مختصر آمیں نے ذکر کیا توکل کے بارہ میں اور اس آیت کی مختصر تفسیر میں کہ دشمن کے ساتھ اگر معاملہ پڑے تو کیا طریق اختیار کرنا چاہئے اور پھر معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑنا چاہئے اور اسی پر توکل کرنا چاہئے۔لیکن روز مرہ کے معاملات میں بھی تو کل علی اللہ کی بہت ضرورت ہے۔اور اللہ تعالیٰ پر تو کل تبھی پیدا ہوتا ہے جب خدا کی ذات پر اس کی طاقتوں پر کامل یقین پیدا ہو۔جیسا کہ اس آیت میں جو میں ابھی