خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 231
خطبات مسرور 231 $2003 ہمیشہ یادرکھنا چاہئے عہدیداران کو، کارکنان کو کہ عہدہ بھی ایک عہد ہے، خدمت بھی ایک عہد ہے جو خدا اور اس کے بندوں سے ایک کارکن، ایک عہد یدار، اپنے فرائض کی ادائیگی کے لئے کرتا ہے۔اگر ہر عہد یدار یہ سمجھنے لگ جائے کہ نہ صرف قول سے بلکہ دل کی گہرائیوں سے اس بات پر قائم ہو کہ خدمت دین ایک فضل الہی ہے۔میری غلط سوچوں سے یہ فضل مجھ سے کہیں چھن نہ جائے تو ہماری ترقی کی رفتار اللہ تعالیٰ کے فضل سے کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ہم سب کے لئے لمحہ فکر یہ ہے، ایک سوچنے کا مقام ہے کہ امانت ایمان کا حصہ ہے، اگر امانت کی صحیح ادا ئیگی نہیں کر رہے ، اگر اپنے عہد پر صحیح طرح کار بند نہیں ، جو حدود تمہارے لئے متعین کی گئی ہیں ان میں رہ کر خدمت انجام نہیں دے رہے تو اس حدیث کی رو سے ایسے شخص میں دین ہی نہیں اور دین کو درست کرنے کے لئے اپنی زبان کو درست کرنا ہوگا۔اور فرمایا کہ زبان اس وقت تک درست نہ ہوگی جب تک دل درست نہ ہوگا۔اور پھر ایک کڑی سے دوسری کڑی ملتی چلی جائے گی۔تو حسین معاشرے کو قائم رکھنے کے لئے ان تمام امور کی درستگی ضروری ہے۔ایک بات اور واضح ہو کہ صرف منہ سے یہ کہہ دینے سے کہ میرادل درست ہے، کافی نہیں۔ہر وقت ہم میں سے ہر ایک کے ذہن میں یہ بات رہنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ دلوں کا حال جانتا ہے۔وہ ہماری پا تال تک سے واقف ہے۔وہ سمیع و بصیر ہے اس لئے اپنے تمام قبلے درست کرنے پڑیں گے۔تو خدمت دین کرنے کے مواقع بھی ملتے رہیں گے۔تو یہ تقویٰ کے معیار قائم رہیں گے تو نظام جماعت بھی مضبوط ہو گا اور ہوتا چلا جائے گا انشاء اللہ تعالی۔ایسے عہدیدار جو پورے تقویٰ کے ساتھ خدمت سرانجام دیتے ہیں اور دے رہے ہیں ان کے لئے ایک حدیث میں جو میں پڑھتا ہوں، ایک خوشخبری ہے۔حضرت ابو موسی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ وہ مسلمان جو مسلمانوں کے اموال کا نگران مقرر ہوا اگر وہ امین اور دیانتدار ہے اور جو اسے حکم دیا جاتا ہے اسے صحیح صحیح نافذ کرتا ہے اور جسے کچھ دینے کا حکم دیا جاتا ہے اسے پوری بشاشت اور خوش دلی کے ساتھ اس کا حق سمجھتے ہوئے دیتا ہے تو ایسا شخص بھی عملاً صدقہ دینے والے کی طرح صدقہ دینے والا شمار ہوگا۔(مسلم کتاب الزكواة باب اجر الخازن الامين والمرأة۔۔۔۔۔۔تو دیکھیں نیکی سے کس طرح نیکیاں نکلتی چلی جارہی ہیں۔خدا کی جماعت کی خدمت کا