خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 230 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 230

230 $2003 خطبات مسرور یہ ہوتا ہے کہ کسی بات کا وجود ہی نہیں ہوتا اور وہ بات بازار میں گردش کر رہی ہوتی ہے۔اور جب تحقیق کر و تو پتہ چلتا ہے کہ فلاں کا رکن نے فلاں سے بالکل اور رنگ میں کوئی بات کی تو جو کم از کم نہیں تو سو سے ضرب کھا کر باہر گردش کر رہی ہوتی ہے۔تو جس کے متعلق بات کی جاتی ہے جب اس تک یہ بات پہنچتی ہے تو طبعی طور پر اس کے لئے تکلیف کا باعث ہوتی ہے۔اول تو بات اس طرح ہوتی نہیں اور اگر ہے بھی تو تمہیں کسی کی عزت اچھالنے کا کس نے اختیار دیا ہے۔پھر مشورے ہیں اگر کوئی کسی عہدیدار سے یا کسی بھی شخص سے مشورہ کرتا ہے تو یہ بالکل ذاتی چیز ہے، ایک امانت ہے۔تمہارے پاس ایک شخص مشورہ کے لئے آیا، تم نے اپنی عقل کے مطابق اسے مشورہ دیا تو تم نے امانت لوٹانے کا حق ادا کر دیا۔اب تمہارا کوئی حق نہیں بنتا کہ اس مشورہ لینے والے کی بات آگے کسی اور سے کرو۔اور اگر کرو گے تو یہ خیانت کے زمرے میں آ جائے گی۔عہدیداران کو بھی ، کارکنان کو بھی اس حدیث کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہئے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : جب امانتیں ضائع ہونے لگیں تو قیامت کا انتظار کرنا۔سائل نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ان کے ضائع ہونے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا : جب نا اہل لوگوں کو حکمران بنایا جائے تو قیامت کا انتظار کرنا۔(بخارى كتاب الرقاق باب رفع الامانة ) پھر طبرانی کبیر میں یہ روایت آئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: جس میں امانت نہیں، اس میں ایمان نہیں جس کو عہد کا پاس نہ ہو اس میں دین نہیں ، اُس ہستی کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے کسی بندے کا اُس وقت تک دین درست نہ ہو گا جب تک اُس کی زبان درست نہ ہو۔اور اُس کی زبان درست نہ ہوگی جب تک اُس کا دل درست نہ ہوگا۔اور جو کوئی کسی ناجائز کمائی سے کوئی مال پائے گا اور اُس میں سے خرچ کرے گا تو اُس کو اُس میں برکت نہیں دی جائے گی ، اور اگر اُس میں سے خیرات کرے گا تو قبول نہیں ہوگی اور جو اُس میں سے بچ رہے گا وہ اُسے دوزخ کی طرف لے جانے کا موجب ہوگا۔بُری چیز بُری چیز کا کفارہ نہیں بن سکتی ہے، البتہ اچھی چیز اچھی چیز کا کفارہ ہوتی ہے۔(المعجم الكبير الطبراني جلد ۱۰ صفحه ۲۲۷