خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 232 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 232

232 $2003 خطبات مسرور موقع بھی ملا، خدا کی مخلوق کی خدمت کا موقع بھی ملا، حکم کی پابندی کر کے، امانت کی ادائیگی کر کے، صدقے کا ثواب بھی کما لیا۔بلاؤں سے بھی اپنے آپ کو محفوظ کر لیا۔اور اللہ تعالیٰ کی رضا بھی حاصل ہوگئی۔پھر مجالس کی امانتیں ہیں۔کسی مجلس میں اگر آپ کو دوست سمجھ کر ، اپنا سمجھ کر آپ کے سامنے باتیں کر دی جائیں تو ان باتوں کو باہر لوگوں میں کرنا بھی خیانت ہے۔پھر مجالس میں کسی کے عیب دیکھیں، کسی کی کوئی کمزوری دیکھیں تو اس کو باہر پھیلا نا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔جب کہ کسی اور شخص کو بھی بتانا جس کا اس مجلس سے تعلق نہ ہو یہ بھی خیانت ہے۔ایک بات اور واضح ہو اور ہر وقت ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اگر کسی مجلس میں نظام کے خلاف یا نظام کے کسی کارکن کے خلاف باتیں ہو رہی ہوں تو اس کو پہلے تو وہیں بات کرنے والے کو سمجھا کر اس بات کو ختم کر دینا زیادہ مناسب ہے اور و ہیں اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔اگر اصلاح کی کوئی صورت نہ ہو تو پھر بالا افسران تک اطلاع کرنی چاہئے۔لیکن بعض دفعہ بعض کارکن بھی اس میں Involve ہو جاتے ہیں۔پتہ نہیں آج کل کے حالات کی وجہ سے مردوں کے اعصاب پر بھی زیادہ اثر ہو جاتا ہے یا مردوں کو بھی بلا سوچے سمجھے عورتوں کی طرح باتیں کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔اس میں بعض اوقات اچھے بھلے سلجھے ہوئے کارکن بھی شامل ہو جاتے ہیں اور ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں اور اس طرح غیر محسوس طور پر ایک کارکن دوسرے کارکن کے متعلق بات کر کے یا ایک عہد یدار دوسرے بالا عہدیدار کے متعلق بات کر کے یا اپنے سے کم عہدیدار کے متعلق بات کر کے، لوگوں کے لئے فتنے کا موجب بن رہا ہوتا ہے۔کمزور طبیعت والے ایسی باتوں کا خواہ وہ چھوٹی باتیں ہی ہوں، برا اثر لیتے ہیں۔اور ایسے کارکنوں کو بھی جو اپنے ساتھی عہدیداران کے متعلق باتیں کرنے کی عادت پڑ جائے تو منافق بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔اس لئے تمام کارکنان اور عہدیداران کو جو ایسی باتیں خواہ مذاق کے رنگ میں ہوں کرتے ہیں ان کو اپنے عہدوں اور اپنے مقام کی وجہ سے ایسی باتیں کرنے سے پر ہیز کرنا چاہئے۔اور ایسی مجلسوں میں بیٹھنے والوں کے لئے یہاں اجازت ہے۔اب ویسے تو مجلس کی باتیں امانت ہیں باہر نہیں نکلنی چاہئیں لیکن