خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 229
$2003 229 خطبات مسرور جاتے ہیں، عموما یہ جماعتی روایت ہے۔دعا کر کے اپنے ووٹ کے صحیح استعمال کی کوشش کی جاتی ہے اور پھر آپ کس کو ووٹ دیتے ہیں یا کم از کم یہی ایک متقی کی کوشش ہونی چاہئے کہ اس کو ووٹ دیا جائے جو آپ کے نزدیک سب سے زیادہ اللہ کا خوف رکھنے والا ہے۔جس عہدے کے لئے منتخب ہو رہا ہے اس کا کچھ نہ کچھ علم بھی اس کو ہو۔پھر جماعت کے کاموں کے لئے وقت بھی دے سکتا ہو۔جس حد تک اس کی طاقت میں ہے وقت کی قربانی بھی دے سکتا ہو۔پھر صرف اس لئے کسی کو عہد یدار نہ بنائیں کہ وہ آپ کا عزیز ہے یا دوست ہے۔اور اتنا مصروف ہے کہ جماعتی کاموں کے لئے وقت نکالنا مشکل ہے۔لیکن عزیز اور دوست ہونے کی وجہ سے اس کو عہد یدار بنانے کی کوشش کی جائے تو یہ ہے امانت کے حقدار کو امانت کو صحیح طرح نہ پہنچانا۔اس نیت سے جب انتخابات ہوں گے کہ صحیح حقدار کو یہ امانت پہنچائی جائے تو اس میں برکت بھی پڑے گی ، انشاء اللہ۔اور اللہ سے مدد مانگنے والے، نہ کہ اپنے اوپر ناز کرنے والے، اپنے آپ کو کسی قابل سمجھنے والے عہدیدار او پر آئیں گے۔اور جن کے ہر کام میں عاجزی ظاہر ہوتی ہوگی اور یہی لوگ آپ کے حقوق کا صحیح خیال رکھنے والے بھی ہوں گے۔اور نظام جماعت کو صیح نہج پر چلانے والے بھی ہوں گے۔بعض دفعہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں عہد یدار بناؤ۔ان کے بارہ میں یہ حدیث ہے جو حضرت خلیفتہ المسیح اول نے حقائق الفرقان میں Quote کی ہے کہ حضرت نبی کریم کے روبرو دو شخص آئے کہ ہمیں کام سپر د کیجئے ، ہم اس کے اہل ہیں۔فرمایا: جن کو ہم حکم فرما دیں ، خُدا ان کی مدد کرتا ہے۔جو خود کام کو اپنے سر پر لے،اس کی مدد نہیں ہوتی۔پس تم عہدے اپنے لئے خود نہ مانگو۔“ حقائق الفرقان جلد نمبر (۲ صفحه ۳۰ پھر عہدیداران ہیں ان کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے بلکہ جماعت کا ہر کارکن یہ بات یادر کھے که اگر کسی دفتر میں کسی عہدیدار کے پاس کوئی معاملہ آتا ہے یا کسی کارکن کے علم میں کوئی معاملہ آتا ہے چاہے وہ ان کی نظر میں انتہائی چھوٹے سے چھوٹا معاملہ ہو۔وہ اس کے پاس امانت ہے اور اس کو حق نہیں پہنچتا کہ اس سے آگے یہ معاملہ لوگوں تک پہنچے۔ایک راز ہے، ایک امانت ہے، پھر کسی کی کمزوریوں کو اچھالنا تو ویسے بھی ناپسندیدہ فعل ہے اور منع ہے بڑی سختی سے منع ہے۔اور بعض دفعہ تو