خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 193 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 193

$2003 193 خطبات مسرور قصہ کو سنا۔فرمایا۔دیکھو ایک دفعہ جنگل میں ایک مسافر کو شام ہوگئی۔رات اندھیری تھی۔قریب کوئی بستی اُسے دکھائی نہ دی اور وہ ناچار ایک درخت کے نیچے رات گزارنے کے واسطے بیٹھ رہا۔اُس درخت کے اوپر ایک پرند کا آشیانہ تھا۔پرندہ اپنی مادہ کے ساتھ باتیں کرنے لگا کہ دیکھو یہ مسافر جو ہمارے آشیانہ کے نیچے زمین پر آبیٹھا ہے یہ آج رات ہمارا مہمان ہے اور ہمارا فرض ہے کہ اس کی مہمان نوازی کریں۔مادہ نے اس کے ساتھ اتفاق کیا اور ہر دو نے مشورہ کر کے یہ قرار دیا کہ ٹھنڈی رات ہے اور اس ہمارے مہمان کو آگ تاپنے کی ضرورت ہے اور تو کچھ ہمارے پاس نہیں، ہم اپنا آشیانہ ہی توڑ کر نیچے پھینک دیں تا کہ وہ ان لکڑیوں کو جلا کر آگ تاپ لے۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اورسا را آشیانہ تنکا تنکا کر کے نیچے پھینک دیا اس کو مسافر نے غنیمت جانا اور اُن سب لکڑیوں کو تنکوں کو جمع کر کے آگ جلائی اور تاپنے لگا۔تب درخت پر اس پرندوں کے جوڑے نے پھر مشورہ کیا کہ آگ تو ہم نے اپنے مہمان کو بہم پہنچائی اور اُس کے واسطے سینکنے کا سامان مہیا کیا۔اب ہمیں چاہئے کہ اُسے کچھ کھانے کو بھی دیں۔اور تو ہمارے پاس کچھ نہیں۔ہم خود ہی اس آگ میں جاگریں اور مسافر ہمیں بھون کر ہمارا گوشت کھا لے۔چنانچہ اُن پرندوں نے ایسا ہی کیا اور مہمان نوازی کا حق ادا کیا۔“ (ذکر حبیب صفحه ۸۵ تا ۸۷ مصنفه حضرت مفتی محمد صادق صاحب تو یہ ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا طریق واسلوب مہمان نوازی۔اور یہ تو قعات ہیں۔ہم سے تو خدا کا صیح نہ آشیانے کی قربانی مانگ رہا ہے نہ جان کی قربانی مانگ رہا ہے۔صرف کچھ وقت ہے اور تھوڑی سی بے آرامی کی قربانی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کے لئے جو ہم نے کرنی ہے اور اتنی سی قربانی سے ہی آپ اور یہ تمام کارکنان جو ہیں آپ کی آمد کے مقصد کو پورا کرنے والے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ پہلے سے بڑھ کر مہمانوں کی خدمت کرنے کی تمام کارکنوں کو تو فیق عطا فرمائے۔اب کچھ انتظامی اور تربیتی ہدایات ہیں جو میز بانوں اور مہمانوں دونوں کے لئے ہیں۔وہ میں ابھی آپ کو بتاتا ہوں۔اور کوشش کریں کہ تمام امور کو خوش اسلوبی سے سرانجام دینے کے لئے ان پر عمل کیا جائے۔