خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 192
192 $2003 خطبات مسرور لیے معذور ہوں۔مگر جن لوگوں کو ایسے کاموں کے لئے قائمقام کیا ہے یہ ان کا فرض ہے کہ کسی قسم کی شکایت نہ ہونے دیں۔(اخبار ”الحكم“ ٢٤ /نومبر ١٩٠٤ء صفحه ٢،١ ملفوظات جلد ٤ صفحه ١٧٠) پھر حضرت منشی ظفر احمد صاحب روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مغرب کی نماز کے بعد مسجد مبارک قادیان کی اوپر کی چھت پر چند مہمانوں کے ساتھ کھانا کھانے کے انتظار میں تشریف فرما تھے۔اُس وقت ایک احمدی دوست میاں نظام دین صاحب ساکن لدھیانہ جو بہت غریب آدمی تھے اور اُن کے کپڑے بھی پھٹے پرانے تھے ، حضور سے چار پانچ آدمیوں کے فاصلے پر بیٹھے تھے۔اتنے میں چند معزز مہمان آکر حضور کے قریب بیٹھتے گئے اور اُن کی وجہ سے ہر دفعہ میاں نظام دین کو پرے ہٹنا پڑا حتیٰ کہ وہ ہٹتے ہٹتے جوتیوں کی جگہ پر پہنچ گئے۔اتنے میں کھانا آیا تو حضور نے ، جو یہ سارا نظارہ دیکھ رہے تھے، ایک سالن کا پیالہ اور کچھ روٹیاں ہاتھ میں اُٹھا لیں اور میاں نظام دین سے مخاطب ہو کر فرمایا: ” آؤ میاں نظام دین! ہم اور آپ اندر بیٹھ کر کھانا کھائیں۔یہ فرما کر حضور مسجد کے ساتھ والی کوٹھڑی میں تشریف لے گئے اور حضور نے اور میاں نظام دین نے کوٹھڑی کے اندرا کٹھے بیٹھ کر ایک ہی پیالے میں کھانا کھایا۔اُس وقت میاں نظام دین خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے اور جو لوگ میاں نظام دین کو عملاً پرے دھکیل کر حضرت مسیح موعود کے قریب بیٹھ گئے تھے وہ شرم سے کئے جاتے تھے۔(سیرت طیبه از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحه (۱۸۸ پھر حضرت مفتی محمد صادق صاحب بیان کرتے ہیں :- جب میں ۱۹۰۱ء میں ہجرت کر کے قادیان چلا آیا اور اپنی بیوی اور بچوں کو ساتھ لایا۔ایک شب کا ذکر ہے کہ کچھ مہمان آئے جن کے واسطے جگہ کے انتظام کے لئے حضرت ام المومنین حیران ہو رہی تھیں کہ سارا مکان تو پہلے ہی کشتی کی طرح پُر ہے اب ان کو کہاں ٹھہرایا جائے۔اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اکرام ضیف کا ذکر کرتے ہوئے حضرت بیوی صاحبہ کو پرندوں کا ایک قصہ سنایا۔چونکہ میں بالکل ملحقہ کمرے میں تھا اور کواڑوں کی ساخت پرانے طرز کی تھی جن کے اندر سے آواز بآسانی دوسری طرف پہنچتی رہتی ہے۔اس واسطے میں نے اس سارے