خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 194 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 194

194 $2003 خطبات مسرور نمبر ایک یہ ہے کہ مسجد میں اور مسجد کے ماحول میں اس کے آداب اور تقدس کا خیال رکھیں۔اب جلسہ سالانہ کے دنوں میں اسلام آباد میں ہی تمام انتظامات ہوں گے۔تو جو مار کی جلسہ کے لئے لگائی جاتی ہے اسی میں نمازیں ہوں گی۔اس لئے اس وقت کے لئے اس کو آپ کو مسجد کا ہی درجہ دینا ہوگا۔اور مکمل طور پر وہاں اس تقدس کا خیال رکھنا ہوگا۔پھر یہ ہے کہ جلسہ کے ایام بالخصوص ذکر الہی اور درود پڑھتے ہوئے گزاریں اور التزام کے ساتھ نمازوں کی پابندی کریں۔اب اتنی دور سے مہمان تشریف لائے ہیں تو اگر نمازیں بھی نہ پڑھیں اور ان کی پابندی نہ کی تو پھر فائدہ کوئی نہیں ہو گا۔اسی طرح انتظامیہ کے لئے یہ ہے کہ لنگر خانہ میں یا ایسی ڈیوٹیاں جہاں سے ہلنا ان کے لئے مشکل ہے وہاں نماز کی ادائیگی کا انتظام ہونا چاہئے۔اور ان کے افسران کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں۔انگلستان کے احمدیوں کو چاہئے کہ ذوق و شوق کے ساتھ اس جلسہ میں شریک ہوں۔یہ آپ کا جلسہ سالانہ ہے۔بغیر کسی عذر کے کوئی غیر حاضر نہ رہے۔بعض لوگ تین دن کی بجائے صرف دو دن یا ایک دن کے لئے آجاتے ہیں اور ان کے آنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جلسہ کی برکات کے حصول کے بجائے میل ملاقات ہو۔حالانکہ جلسہ کے برکات کو اگر مدنظر رکھا جائے تو تین دن حاضر ر رہنا ضروری ہے۔جس حد تک ممکن ہو جلسہ کی تقاریر اور باقی پروگرام پوری توجہ اور خاموشی سے سنیں اور وقت کی قدر کرتے ہوئے کسی بھی صورت اسے ضائع نہ کریں۔پھر ہے کہ نماز کے دوران بعض اوقات بچے رونے لگ جاتے ہیں جس سے بعض لوگوں کی نماز میں بہر حال توجہ بنتی ہے، خراب ہوتی ہے۔جو نماز کا تعلق تھا وہ جاتا رہتا ہے۔تو اس صورت میں والدین کو چاہئے اگر والد کے پاس بچہ ہے یا والدہ کے پاس بچہ ہے کہ وہ اس کو باہر لے جائیں۔یہ بہتر ہے کہ اس اکیلے کی نماز خراب ہو، بجائے اس کے کہ پورے ماحول میں بچے کے شور کی وجہ سے رونے کی وجہ سے نمازیوں کی نما ز خراب ہو رہی ہو۔نیز اگر چھوٹی عمر کے بچے ہیں تو مائیں جو ہیں اگر یا باپوں کے پاس ہے تو باپ، پہلی صفوں میں بیٹھنے کی کوشش نہ کریں۔بلکہ پیچھے جا کر بیٹھیں تا کہ اگر ضرورت پڑے تو نکلنا بھی آسان ہو۔