خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 10
10 $2003 خطبات مسرور حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: خلافت کے قیام کا مدعا توحید کا قیام ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے اہل۔ایسا کہ جو بھی ٹل نہیں سکتا، زائل نہیں ہوسکتا، اس میں کوئی تبدیلی کبھی نہیں آئے گی۔خلافت کا انعام یعنی آخری پھل تمہیں یہ عطا کیا جائے گا کہ میری عبادت کرو گے، میرا کوئی شریک نہیں ٹھہراؤ گے، کامل توحید کے ساتھ تم میری عبادت کرتے چلے جاؤ گے اور میرے حمد و ثناء کے گیت گایا کرو گے۔یہ وہ آخری جنت کا وعدہ ہے جو جماعت احمدیہ سے کیا گیا اور مجھے یقین ہے اور جو نظارے ہم نے دیکھے ہیں اور جن کے نتیجے میں غم کے دھاروں کے علاوہ حمد کے دھارے بھی ساتھ بہہ رہے ہیں اور شکر کے دھارے بھی ساتھ ہی بہہ رہے ہیں ایسے حیرت انگیز ہیں کہ آج دنیا میں کوئی قوم اس کے پاسنگ کو بھی نہیں پہنچ سکتی۔جو جماعت احمدیہ کا مقام اس دنیا میں ہے وہ کسی اور جماعت کا نہیں پس کامل بھروسہ اور کامل تو کل تھا اللہ کی ذات پر کہ وہ خلافت احمدیہ کو بھی ضائع نہیں ہونے دے گا۔ہمیشہ قائم و دائم رکھے گا۔زندہ اور تازہ اور جوان اور ہمیشہ مہکنے والے عطر کی خوشبو سے معطر رکھتے ہوئے اس شجرہ طیبہ کی صورت میں اس کو ہمیشہ زندہ قائم رکھے گا جس کے متعلق وعدہ ہے اللہ تعالیٰ کا کہ۔ایسا شجرہ طیبہ ہے جس کی جڑیں زمین میں گہری پیوست ہیں اور کوئی دنیا کی طاقت اسے اکھاڑ کر پھینک نہیں سکتی۔حمد اور شکر کا پہلو ایک ابدی پہلو ہے۔وہ ایک لازوال پہلو ہے۔وہ کسی شخص کے ساتھ وابستہ نہیں۔نہ پہلے کسی خلیفہ کی ذات سے وابستہ تھا، نہ میرے ساتھ ہے، نہ آئندہ کسی خلیفہ کی ذات سے وابستہ ہے۔وہ منصب خلافت کے ساتھ وابستہ ہے۔وہ ، وہ پہلو ہے جو زندہ و تابندہ ہے۔اس پر کبھی موت نہیں آئے گی۔انشاء اللہ تعالیٰ۔ہاں ایک شرط کے ساتھ اور وہ شرط یہ ہے۔کہ دیکھو اللہ تم سے وعدہ تو کرتا ہے کہ تمہیں اپنا خلیفہ بنائے گا زمین میں لیکن کچھ تم پر بھی ذمہ داریاں ڈالتا ہے۔تم میں سے ان لوگوں سے وعدہ کرتا ہے جو ایمان لاتے ہیں اور عمل صالح بجالاتے ہیں۔پس اگر نیکی کے اوپر جماعت قائم رہی اور ہماری دعا ہے اور ہمیشہ ہماری کوشش رہے گی کہ ہمیشہ ہمیش کے لئے یہ جماعت نیکی پر ہی قائم رہے، صبر کے ساتھ اور وفا کے ساتھ۔تو خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ بھی ہمیشہ ہمارے ساتھ وفا کرتا چلا جائے گا اور خلافت احمد یہ اپنی پوری شان کے ساتھ شجرہ طیبہ بن کر ایسے درخت کی طرح لہلہاتی رہے گی جس کی شاخیں آسمان سے باتیں کر رہی ہوں۔۔(روزنامه الفضل ربوه - ۲۲ جون ۱۹۸۲ صفحه ۳ - (٤)