خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 9 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 9

9 $2003 خطبات مسرور میری ذات کی نسبت نہیں ہے بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ میں اس جماعت کو جو تیرے پیر و ہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا۔ہمارا خدا وعدوں کا سچا اور وفا دار اور صادق خدا ہے۔وہ سب کچھ تمہیں دکھلائے گا جس کا اس نے وعدہ فرمایا ہے۔اگر چہ یہ دن دنیا کے آخری دن ہیں اور بہت بلائیں ہیں جن کے نزول کا وقت ہے، پر ضرور ہے کہ یہ دنیا قائم رہے جب تک وہ تمام باتیں پوری نہ ہو جائیں جن کی خدا نے خبر دی۔میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں۔اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔(الوصيت روحانی خزائن جلد نمبر ۲۰ صفحه ۳۰۵) حضرت مسیح موعود علیہ الصوۃ والسلام رسالہ الوصیت میں فرماتے ہیں:۔یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور اُن کو غلبہ دیتا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے ﴿كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِی اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشاء ہوتا ہے کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہو جائے اور اُس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے۔اسی طرح خدا تعالیٰ قومی نشانوں کے ساتھ اُن کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اُس کی تخم ریزی انہی کے ہاتھ سے کر دیتا ہے۔لیکن اُس کی پوری تحمیل اُن کے ہاتھ سے نہیں کرتا۔بلکہ ایسے وقت میں ان کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے۔مخالفوں کو نسی اور ٹھٹھے اور طعن و تشنیع کا موقع دے دیتا ہے اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدرنا تمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں۔(رساله الوصيت صفحه ٦ - روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ٣٠٤) اب حضرت خلیفہ مسیح الا قول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:۔یہی تمہارے لئے بابرکت راہ ہے تم اس حبل اللہ کو اب مضبوط پکڑ لو۔یہ بھی خدا ہی کی رہتی ہے جس نے تمہارے متفرق افراد کو اکٹھا کر دیا ہے۔پس اسے مضبوط پکڑے رکھو۔(بدر یکم فروری ۱۹۱۲ء صفحه (۳