خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 11 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 11

$2003 11 خطبات مسرور اس ضمن میں آپ نے مزید فرمایا :- آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ یہ جو خدا نے آپ کو نعمت عطا فرمائی ہے اور آپ کو معلوم بھی نہیں تھا کہ کیسے عطا ہوئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے واسطے سے دوبارہ عطا ہوئی ہے۔پس اس نعمت کو یا درکھیں۔اللہ نے دوبارہ یہ نعمت اپنے فضل سے عطا کی ہے اور نعمت کے سوا دل نہیں باندھے جاسکتے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تصور اپنے میں سے نکال دیں تو آپ میں سے کسی کو دوسرے کی پرواہ نہیں رہے گی اور اس تعلق کو خلافت آگے بڑھا رہی ہے اور وہ تعلق پھر خلافت کی ذات میں مرکوز ہوتا ہے اور پھر آگے چلتا ہے۔( خطبه جمعه ۱۰ / جون ۱۹۹۰ء الفضل ۷ / اگست ۱۹۹۱ء) آپ نے جماعت کو اجتماعیت کی برکت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:- پس وہ خدا کا احسان کہ آپ کو ا کٹھے کر دیا آج یہ دوہری صورت میں ظاہر ہوا ہے۔الحمد للہ کہ آج ہم نے پھر دیکھا آج پھر بھائی بنائے گئے ہو لیکن خدا کی قسم اب جو بنائے گئے ہو، انشاء اللہ تعالیٰ قیامت تک بنائے رکھے گا تمہیں ، اگر تم انکساری کے ساتھ خدا تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے زندگیاں بسر کرو گے تو اس نعمت کو کوئی تم سے چھین نہیں سکے گا۔(خطبه جمعه ٥ /اگست ١٩٩٤ء، الفضل ۲۳/ اگست ١٩٩٤ء) آپ نے فرمایا تھا کہ:- میں آپ کو ایک خوشخبری دیتا ہوں کہ اب آئندہ انشاء اللہ خلافت احمدیہ کو بھی کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔جماعت بلوغت کے مقام کو پہنچ چکی ہے خدا کی نظر میں۔اور کوئی دشمن آنکھ، کوئی دشمن دل کوئی دشمن کوشش اس جماعت کا بال بھی بیکا نہیں کر سکے گی اور خلافت احمد یہ انشاء اللہ تعالیٰ اسی شان کے ساتھ نشو و نما پاتی رہے گی جس شان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے وعدے فرمائے ہیں۔کم از کم ایک ہزار سال تک یہ جماعت زندہ رہے گی۔تو دعائیں کریں، حمد کے گیت گائیں اور اپنے عہدوں کی پھر تجدید کریں۔الفضل ۲۸ جون ۱۹۸۲ء) آج ہم سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اے جانے والے تو نے اس پیاری جماعت کو جو خوشخبری دی تھی وہ حرف بحرف پوری ہوئی۔اور یہ جماعت آج پھر بنیان مرصوص کی طرح