خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 135
135 $2003 خطبات مسرور خاتم الخلفا کو پیدا کیا اور اس کا کام یضع الحرب رکھ کر دوسری طرف لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّيْنِ كله قرار دیا۔یعنی وہ اسلام کا غلبہ ململ ہا لکہ پر حجت اور براہین سے قائم کرے گا اور جنگ وجدال کو اٹھا دے گا۔وہ لوگ سخت غلطی کرتے ہیں جو کسی خونی مہدی اور خونی مسیح کا انتظار کرتے ہیں۔“ (الحكم جلد ٦ ـ نمبر ٢٤ ـ مؤرخه ١٠/ جولائی ۱۹۰۲ء۔صفحه ۳) پھر آپ فرماتے ہیں کہ: مذہبی امور میں آزادی ہونی چاہیے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ کہ دین میں کسی قسم کی زبردستی نہیں ہے۔اس قسم کا فقرہ انجیل میں کہیں بھی نہیں ہے۔لڑائیوں کی اصل جڑ کیا تھی ، اس کے سمجھنے میں ان لوگوں سے غلطی ہوئی ہے۔اگر لڑائی کا ہی حکم تھا تو تیرہ برس رسول اکرم کے تو پھر ضائع ہی گئے کہ آپ نے آتے ہی تلوار نہ اٹھائی۔صرف لڑنے والوں کے ساتھ لڑائیوں کا حکم ہے۔اسلام کا یہ اصول کبھی نہیں ہوا کہ خود ابتدائے جنگ کرے۔لڑائی کا کیا سبب تھا، اسے خود خدا نے بتلایا ہے کہ ظلِمُوا۔خدا نے جب دیکھا کہ یہ لوگ مظلوم ہیں تو اب اجازت دیتا ہے کہ تم بھی لڑو۔یہ نہیں حکم دیا کہ اب وقت تلوار کا ہے، تم زبردستی تلوار کے ذریعہ لوگوں کو مسلمان کرو بلکہ یہ کہا ہے کہ تم مظلوم ہو۔اب مقابلہ کرو۔مظلوم کو تو ہر ایک قانون اجازت دیتا ہے کہ حفظ جان کے واسطے مقابلہ کرے۔66 (البدر جلد ۲ نمبر ۱ - ۲- مورخه ۲۳ / جنوری ۱۹۰۳ء) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزید فرماتے ہیں: نواب صدیق حسن خان کا یہ خیال صحیح نہیں تھا کہ مہدی کے زمانے میں جبر کر کے لوگوں کو مسلمان کیا جائے گا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقره: 257) یعنی دین اسلام میں جبر نہیں ہے ہاں عیسائی لوگ ایک زمانے میں جبر الوگوں کو عیسائی بناتے تھے مگر اسلام جب سے ظاہر ہوا، وہ جبر کے مخالف ہے۔جبر اُن لوگوں کا کام ہے جن کے پاس آسمانی نشان نہیں مگر اسلام تو آسمانی نشانوں کا سمندر ہے۔کسی نبی سے اس قدر مجزات ظاہر نہیں ہوئے جس قدر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔کیونکہ پہلے نبیوں کے معجزات ان کے مرنے کے ساتھ ہی مر گئے مگر ہمارے نبی علم کے معجزات اب تک ظہور میں آرہے ہیں اور قیامت تک ظاہر ہوتے رہیں گے۔جو کچھ میری