خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 134 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 134

$2003 134 خطبات مسرور آزادی پیدا کرنے کے لئے لڑائی کی جاتی تھی۔بجز ان تین صورتوں کے آنحضرت ﷺ اور آپ کے مقدس خلیفوں نے کوئی لڑائی نہیں کی بلکہ اسلام نے غیر قوموں کے ظلم کی اس قدر برداشت کی ہے جو اس کی دوسری قوموں میں نظیر نہیں ملتی۔پھر یہ عیسی مسح اور مہدی صاحب کیسے ہوں گے جو آتے ہی لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دیں گے یہاں تک کہ کسی اہل کتاب سے بھی جزیہ قبول نہیں کریں گے اور آیت حَتَّى يُعْطُوْا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدِ وَهُمْ صَغِرُوْنَ کو بھی منسوخ کر دیں گے۔یہ دین اسلام کے کیسے حامی ہوں گے کہ آتے ہی قرآن کریم کی ان آیتوں کو بھی منسوخ کر دیں گے جو آنحضرت مے کے وقت میں بھی منسوخ نہیں ہوئیں اور اس قد را نقلاب سے پھر بھی ختم نبوت میں حرج نہیں آئے گا۔اس زمانہ میں جو تیرہ سو برس عہد نبوت کو گزر گئے اور خود اسلام اندرونی طور پر تہتر فرقوں پر پھیل گیا۔بچے مسیح کا یہ کام ہونا چاہئے کہ وہ دلائل کے ساتھ دلوں پر فتح پاوے، نہ تلوار کے ساتھ۔اور صلیبی عقیدہ کو واقعی اور سچے ثبوت کے ساتھ توڑ دے، نہ یہ کہ ان صلیبوں کو تو ڑتا پھرے جو چاندی یا سونے یا پیتل یا لکڑی سے بنائی جاتی ہیں۔اگر تم جبر کرو گے تو تمہارا جبر اس بات پر کافی دلیل ہے کہ تمہارے پاس اپنی سچائی پر کوئی دلیل نہیں۔ہر یگ نادان اور ظالم طبع جب دلیل سے عاجز آ جاتا ہے تو پھر تلوار یا بندوق کی طرف ہاتھ لمبا کرتا ہے مگر ایسا مذہب ہرگز ہرگز خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوسکتا جو صرف تلوار کے سہارے سے پھیل سکتا ہے نہ کسی اور طریق سے۔اگر تم ایسے جہاد سے باز نہیں آ سکتے اور اس پر غصہ میں آکر راستبازوں کا نام بھی دجال اور ملحد رکھتے ہو تو ہم ان دو فقروں پر اس تقریر کو ختم کرتے ہیں فل يأَيُّهَا الْكَفِرُوْنَ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ - -(تفسیر حضرت مسیح موعود عليه السلام جلد ۱ صفحه ٧٤٧-٧٤٨ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ جو کچھ کرتا ہے وہ تعلیم اور تربیت کے لئے کرتا ہے چونکہ شوکت کا زمانہ دیر تک رہتا ہے اور اسلام کی قوت اور شوکت صدیوں تک رہی اور اس کے فتوحات دُور دراز تک پہنچے اس لئے بعض احمقوں نے سمجھ لیا کہ اسلام جبر سے پھیلایا گیا۔حالانکہ اسلام کی تعلیم ہے ﴿لا إِكْرَاهَ فِي الدين۔اس امر کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لئے (کہ) اسلام جبر سے نہیں پھیلا اللہ تعالیٰ نے