خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 136
$2003 136 خطبات مسرور تائید میں ظاہر ہوتا ہے دراصل وہ سب آنحضرت ﷺ کے معجزات ہیں۔مگر کہاں ہیں وہ پادری اور یہودی یا اور قو میں، جو ان نشانوں کے مقابل پر نشان دکھلا سکتے ہیں۔ہرگز نہیں ! ہرگز نہیں !! ہرگز نہیں !!! اگر چہ کوشش کرتے کرتے مر بھی جائیں تب بھی ایک نشان بھی دکھلا نہیں سکتے کیونکہ ان کے مصنوعی خدا ہیں۔بچے خدا کے وہ پیر نہیں ہیں۔اسلام معجزات کا سمندر ہے۔اس نے کبھی جبر نہیں کیا اور نہ اس کو جبر کی کچھ ضرورت ہے۔“ تتمه حقيقة الوحى -٣٥ - ٣٦ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ٤٦٩،٤٦٨) پھر آپ فرماتے ہیں: یہ جہالت اور سخت نادانی ہے کہ اس زمانے کے نیم ملا فی الفور کہہ دیتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جبراً مسلمان کرنے کے لئے تلوار اٹھائی تھی اور انہی شبہات میں ناسمجھ پادری گرفتار ہیں مگر اس سے زیادہ کوئی جھوٹی بات نہیں ہوگی کہ یہ جبر اور تعدی کا الزام اس دین پر لگایا جائے جس کی پہلی ہدایت یہی ہے کہ لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقره: ۲۵۷) یعنی دین میں جبر نہیں چاہیے بلکہ ہمارے نبی ﷺ اور آپ کے بزرگ صحابہ کی لڑائیاں یا تو اس لئے تھیں کہ کفار کے حملے سے اپنے تئیں بچایا جائے۔اور یا اس لئے تھیں کہ امن قائم کیا جائے۔اور جولوگ تلوار سے دین کو روکنا چاہتے ہیں، ان کو تلوار سے پیچھے ہٹایا جائے۔“ آپ فرماتے ہیں کہ :- ترياق القلوب رب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۵۸ تمام سچے مسلمان جو دنیا میں گزرے کبھی ان کا یہ عقیدہ نہیں ہوا کہ اسلام کو تلوار سے پھیلانا چاہئے بلکہ ہمیشہ اسلام اپنی ذاتی خوبیوں کی وجہ سے دنیا میں پھیلا ہے۔پس جولوگ مسلمان کہلا کر صرف یہی بات جانتے ہیں کہ اسلام کو تلوار سے پھیلانا چاہئے ، وہ اسلام کی ذاتی خوبیوں کے معترف نہیں ہیں اور ان کی کارروائی درندوں کی کارروائی سے مشابہ ہے۔“ 66 (ترياق القلوب روحانی خزائن جلد ١٥ – حاشیه صفحه ١٦٧) پس آج ہر احمدی کا یہ فرض بنتا ہے کہ اسلام کی جو تصویر، جو تعلیم حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے کھینچی ہے اور دی ہے اس کو لے کر اسلام کے امن اور آشتی صلح اور صفائی کے پیغام کو ہر جگہ