خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 114 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 114

114 خطبات مسرور دعاؤں کو بھی سنا ہے۔پس ان دنوں میں بہت زیادہ دعاؤں کی طرف ہمیں توجہ دینی چاہئے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: $2003 فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ مَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِيْنَ يُبَدِّلُوْنَهُ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ (سورة البقره : ۱۸۲) پس جو اُسے اُس کے سُن لینے کے بعد تبدیل کرے تو اس کا گناہ ان ہی پر ہو گا جو اسے تبدیل کرتے ہیں۔یقینا اللہ بہت سننے والا (اور ) دائمی علم رکھنے والا ہے۔اس آیت میں وصیت کا مضمون بیان کیا گیا ہے۔اس سلسلہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:۔اگر کوئی شخص وصیت کرے اور بعد میں کوئی دوسرا شخص اس میں تغیر و تبدل کر دے تو اس صورت میں تمام تر گناہ اس شخص کی گردن پر ہے جس نے وصیت میں ترمیم و تنسیخ کی۔یہ تغیر دوصور توں میں ہوسکتا ہے۔ایک تو یہ کہ لکھانے والا تو کچھ اور لکھائے مگر لکھنے والا شرارت سے کچھ اور لکھ دے۔یعنی لکھوانے والے کی موجودگی میں ہی اُس کے سامنے تغیر و تبدل کر دے۔دوسری صورت یہ ہے کہ وصیت کرنے والے کی وفات کے بعد اُس میں تغیر و تبدل کر دے۔یعنی وصیت میں جو کچھ کہا گیا ہو اس کے مطابق عمل نہ کرے بلکہ اُس کے خلاف چلے۔ان دونوں صورتوں میں اس گناہ کا و بال صرف اُسی پر ہو گا جو اُ سے بدل دے۔(اقمہ میں سبب مُسبب کی جگہ استعمال کیا گیا ہے اور مراد گناہ نہیں بلکہ گناہ کا وبال ہے )۔یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ اس میں کسی قرآنی حکم کی طرف اشارہ ہے ور وہ حکم وراثت کا ہی ہے۔ورنہ اس کا کیا مطلب کہ بدلنے کا گناہ بدلنے والوں پر ہوگا، وصیت کرنے والے پر نہیں ہوگا۔کیونکہ اگر اس وصیت کی تفصیلات شرعی نہیں تو بدلنے والے کو گناہ کیوں ہو۔اُس کے گناہ گار ہونے کا سوال تبھی ہوسکتا ہے جبکہ کسی شرعی حکم کی خلاف ورزی ہورہی ہو، اور وہ اسی طرح ہوسکتی ہے کہ مرنے والا تو یہ وصیت کر جائے کہ میری جائیدا دا حکام اسلام کے مطابق تقسیم کی جائے لیکن وارث اس کی وصیت پر عمل نہ کریں۔ایسی صورت میں وصیت کرنے والا تو گناہ سے بچ جائے گا لیکن وصیت تبدیل کرنے والے وارث گناہ گار قرار پائیں گے۔“ (تفسیر کبیر جلد دوم صفحه (٣٦٨)