خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 115
خطبات مسرور 115 حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ اس ضمن میں فرماتے ہیں : $2003 انَّ اللهَ سَمِيعٌ عَلِیم: فرماتا ہے کہ ہم علیم خدا ہیں۔سمجھ بوجھ کر حصص مقرر کئے ہیں اور وصیتوں کے بدلانے کو بھی سنتے ہیں۔چنانچہ فرماتا ہے ﴿وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُوْلَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُوْدَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيْهَا (النساء: (۱۵) فَمَنْ بَدَّلَهُ : اب سن لو کہ کیا کچھ تبدیل کیا گیا ہے۔سب سے اول تو یہ کہ لڑکیوں کو ورثہ نہیں دیا جاتا۔خدا تعالیٰ نے عورت کو بھی حرث فرمایا ہے اور زمین کو بھی۔ایسا ہی زمین کو بھی ارتقض فرماتا ہے اور عورتوں کو بھی۔فَانَّمَا مه : چنانچہ اس کا نتیجہ دیکھ لو کہ جب سے ان لوگوں نے لڑکیوں کا ورثہ دینا چھوڑا ہے، ان کی زمینیں ہندوؤں کی ہو گئی ہیں۔جو ایک وقت سو گھماؤں زمین کے مالک تھے اب دو بیگھہ کے بھی نہیں رہے۔یہ اس لئے کہ صریحاً النساء آیت ۱۵ میں فرمایا وله عذاب مهین اس سے زیادہ اور کیا ذلت ہوگی۔عورتوں پر جو ظلم ہو رہا ہے، وہ بہت بڑھ گیا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا﴾ (البقرة: ۲۳۲)۔دوسرا وَعَاشِرُوْا هُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (النساء: ٢٠) - - ! تیرا وَلَا تُضَارُّوْهُنَّ (الطلاق: ( چوتھا فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ (النساء:۲۰) پنجم وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ ﴾ (البقرة : ۲۲۹ )۔باوجود اس کے وراثت ( یعنی ورثہ نہ دینے کا ) کا ظلم بہت بڑھ رہا ہے۔پھر دوسرا یہ کہ بعض ظالم عورت کو نہ رکھتے ہیں نہ طلاق دیتے ہیں۔“ (حقائق الفرقان جلد ۱ صفحه (۳۰۰) اس آیت کی تفسیر میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: "جو شخص سننے کے بعد وصیت کو بدل ڈالے تو یہ گناہ اُن لوگوں پر ہے جو جرم تبدیل وصیت کے عمد امرتکب ہوں۔تحقیق اللہ سنتا اور جانتا ہے یعنی ایسے مشورے اُس پر مخفی نہیں رہ سکتے اور یہ نہیں کہ اُس کا علم ان باتوں کے جاننے سے قاصر ہے۔“ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ ص ۲۱۰) جیسا کہ حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگ عورتوں کے حقوق ادا نہیں کرتے ، وارثت کے حقوق۔اور ان کا شرعی حصہ نہیں دیتے اب بھی یہ بات سامنے آتی ہے برصغیر میں اور جگہوں پر بھی ہوگی کہ عورتوں کو ان کا شرعی حصہ نہیں دیا جاتا۔وراثت میں ان کو جو ان کا حق بنتا ہے نہیں ملتا۔اور یہ بات نظام کے سامنے تب آتی ہے جب بعض عورتیں وصیت کرتی ہیں تو لکھ