خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 74 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 74

خطبات مسرور جلد 13 74 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 جنوری 2015ء جیسا کہ میں نے کہا اس حدیث میں اس شخص نے کہا تھا کہ نہ اس سے زیادہ کروں گا نہ کم تو وہ کم از کم معیار تھا جس کا اس نے اعلان کیا تھا۔ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو نماز بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ادا نہیں کرتے جو فرض ہے جیسا کہ میں نے کہا مردوں کو باجماعت نماز فرض ہے۔پس ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کو دھو کہ نہیں دیا جا سکتا۔جس طرح دنیا کے کاموں کے لئے کوشش ہوتی ہے اس سے بڑھ کر دین کے کام کے لئے کوشش ہونی چاہئے اور استعدادوں کو بڑھانے کی بھی کوشش ہونی چاہئے۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ کمزور لوگ ہمیشہ اپنے لئے سہارے کی تلاش کرتے ہیں لیکن کیونکہ صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں اس لئے بعض لوگ جن میں کچھ قابلیت ہو آگے بڑھ جاتے ہیں لیکن بعض مزید سہارے کو چاہتے ہیں لیکن یہ نہیں ہوتا کہ وہ تھک کر اس لئے بیٹھ جائیں کہ ان کی صلاحیت ہی اتنی تھی۔دنیاوی قانون میں توممکن ہو سکتا ہے کہ صلاحیت سے زیادہ کا وزن کسی پر ڈالا جارہا ہولیکن دین کے معاملات میں یہ نہیں ہے۔جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ کم از کم معیار کے بعد یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا کہ صلاحیت سے زیادہ کا بوجھ کسی پر لادا جا رہا ہو۔ہاں بعض باتوں کو سمجھنے کے لئے بعض سہاروں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔جیسا کہ دنیاوی معاملات میں پڑتی ہے۔ان سہاروں کی طرف کمزور مومنوں کو رجوع کرنا چاہئے اُسی طرح جس طرح ایک کمزور طالب علم استاد سے بار بار کوئی سبق سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور استاد کی کوشش سے ان کے معیار بہتر ہو جاتے ہیں لیکن استاد مدد نہ کرے تو بالکل پیچھے رہ جاتے ہیں لیکن ایسے استاد جو مدد نہ کریں ان کے رویے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ استاد صحیح طور پر اپنے فرائض اور اپنا حق ادا نہیں کر رہے بلکہ اپنے کام سے خیانت کرنے والے استاد ہیں۔مر بیان اور مبلغین کیلئے ایک ضروری نصیحت یہاں میں دین کے لئے جو استاد مقرر ہیں ان کو بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں یعنی ہمارے مربیان و مبلغین اور صاحب علم لوگ کہ اللہ تعالیٰ نے جو اُن کی استعدادوں کو بڑھایا ہوا ہے تو وہ ان کا صحیح استعمال بھی کریں اور اپنی استعدادوں سے کمزوروں کی استعدادوں کو علمی لحاظ سے بڑھانے کی کوشش کریں کیونکہ یہ آپ کی طرف سے خدا تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیتوں کا شکرانہ ہو گا۔اگر اللہ تعالیٰ کی حقیقی رنگ میں شکر گزاری نہ ہو تو انسان گنہگار بن جاتا ہے۔پس مرتبیان اور مبلغین اور دوسرے واقفین زندگی جن کو دین کا علم ہے خاص طور پر اس بات کی طرف توجہ کریں کہ لوگوں کی استعدادوں کو سہارے دے کر اوپر لائیں۔کم از کم درجے سے اوپر کے