خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 73 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 73

خطبات مسرور جلد 13 لے کر آئے ہوئے تھے۔73 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 جنوری 2015ء (سنن الترمذی ابواب المناقب باب نمبر 43 حدیث نمبر 3675) تو یہاں بھی ہر ایک کے معیار ہیں۔ہاں یہ بیشک ہے کہ ایسے اعلیٰ معیار کا مطالبہ ہر ایک سے نہیں ہو سکتا۔لیکن تحریص دلائی گئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ نوافل کا ثواب ہے۔بلکہ یہ بھی کہا کہ نوافل فرائض کی کمی کو بھی پورا کرتے ہیں۔ایمان ویقین میں اضافہ کرتے ہیں۔لیکن یہ حکم نہیں دیا گیا کہ ضرور ہر ایک کے لئے فرض ہے چاہے اس کی حالت ہے کہ نہیں کہ نفل ادا کرے۔یعنی جو بھی فرائض میں داخل ہے صرف نفل نمازوں کے ( معاملہ میں ) نہیں بلکہ مالی قربانی کے لئے بھی ، وقت کے لئے بھی۔کیونکہ اعلیٰ درجوں پر عمل جو ہے اسلام میں قابلیتوں کی بنا پر ہے۔اس لئے ہر ایک کے لئے فرض نہیں ہے اور چونکہ قابلیتیں مختلف ہوتی ہیں اس لئے کم سے کم قابلیت اور عقل جو سب میں ہوتی ہے اس کے مطابق مطالبہ کیا گیا ہے۔ایمان کے اعلیٰ مدارج کا ہر ایک سے مطالبہ نہیں کیا گیا۔جو (مدارج) کسی بھی اعلیٰ سے اعلیٰ ایمان رکھنے والے کے اپنے اعلیٰ معیار کے مطابق ہوں، کم سے کم ایمان رکھنے والے کا جو اعلیٰ ترین معیار ہے اس کو وہاں تک پہنچنے کے لئے نہیں کہا گیا۔پس یہ فرق ہے جو صلاحیتوں اور قابلیتوں کے مطابق رکھا گیا ہے اور کسی کو تکلیف میں نہیں ڈالا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا کہ: ”خدا تعالیٰ انسانی نفوس کو ان کی وسعت علمی سے زیادہ کسی بات کو قبول کرنے کے لئے تکلیف نہیں دیتا اور وہی عقیدے پیش کرتا ہے جن کا سمجھنا انسان کی حد استعداد میں داخل ہے تا اس کے حکم تکلیف مالا يطاق میں داخل نہ ہوں۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 432) پس ہر ایک کے عمل اور سمجھ کی جو استعداد کی حد ہے وہی اس کی نیکی کا معیار ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ طاقت سے بڑھ کر کسی کو تکلیف میں نہیں ڈالتا۔یہاں یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر ہمارے دل کی پاتال تک ہے، گہرائی تک ہے۔کسی بھی قسم کا بہانہ اپنی کم علمی یا کم عقلی یا استعدادوں کی کمی کا اللہ تعالیٰ کے حضور نہیں چل سکتا۔اس لئے اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے پھر اپنی استعدادوں کے جائزہ لے کر اپنے ایمان اور عمل کو پرکھنا چاہئے۔یہی نہیں کہ تھوڑے سے تھوڑا معیار ہے تو بس ہمیں چھٹی مل گئی۔کم از کم معیار بھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فر ما یا وہ یہ تھا کہ پانچ نمازیں فرض ہیں۔اور ایک مرد کے لئے پانچ نمازیں باجماعت فرض ہیں۔روزے فرض ہیں اور اگر مال پر قربانی یاز کو چلگتی ہے تو وہ بھی فرض ہے۔پس یہ کم از کم معیار ہیں۔پس ان معیاروں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے جائزے لے کر ہر ایک کو پرکھنا چاہئے۔