خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 75 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 75

خطبات مسرور جلد 13 75 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 جنوری 2015ء درجوں کی طرف استعدادوں کو بڑھانے میں مدد دیں یا جن درجوں پر ہیں ان کے بھی جو مختلف معیار ہیں ان کو بھی بڑھانے کی کوشش کریں۔یہ بات جہاں ترقی کرنے والے افراد کے ایمان ویقین میں اضافہ کرنے والی ہوگی وہاں جماعتی ترقی میں بھی اہم کردارادا کرے گی۔مبلغین اور مربیان کوتو اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ تمہارے علم کی وجہ سے تمہاری استعداد میں بڑھائی گئی ہیں ان کو اپنے بھائیوں کی استعداد میں بڑھانے کے لئے استعمال کرو جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلْتَكُن مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ - (آل عمران : 105 ) اور تم میں سے ایک ایسی جماعت ہونی چاہئے جس کا کام صرف یہ ہو کہ لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے۔آجکل اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا بھر میں جماعت احمدیہ کے کئی جامعات چل رہے ہیں جہاں سے دینی تعلیم حاصل کر کے مرتبیان اور مبلغین نکل رہے ہیں۔ان کا کام یہ ہے کہ جماعت کی تربیت کی طرف بھی پوری توجہ دیں۔دینی علم انہوں نے صرف خاص موقعوں اور تقریروں یا مناظروں یا صرف چند افراد کو تبلیغ کرنے کے لئے نہیں سیکھا بلکہ مسلسل اپنے آپ کو اس کام میں مصروف رکھنا ہے۔یہ ان کے فرائض میں داخل ہے۔اپنوں کی تربیت بھی کرنی ہے۔ان کے ایمان و ایقان میں اضافے کے طریق بھی انہیں سکھانے ہیں۔ان کی استعدادوں کو بڑھانے کی بھی کوشش کرنی ہے اور دنیا کو خیر کی طرف بلانے کے نئے سے نئے راستے اور طریق بھی ایجاد کرنے ہیں۔بعض زیادہ تجربہ کار ہو جاتے ہیں۔یہ کہہ دیتے ہیں کہ کام نہیں ہے۔جو کام دیا جاتا ہے ہم اسے فوری طور پر بجالاتے ہیں۔لیکن یہ چیز غلط ہے۔صرف یہ بہانے ہوتے ہیں۔بعض اپنے کام کی طرف توجہ دینے کی بجائے اپنی گھریلو ذمہ داریوں کی طرف زیادہ توجہ دے رہے ہوتے ہیں۔بعض اپنی ذات پر ضرورت سے زیادہ توجہ دینے والے ہوتے ہیں چاہے وہ چند ایک ہی ہوں۔لیکن اگر ایسے نظر آتے ہیں تو چھوٹی سی جماعت میں بہت ابھر کر سامنے آ جاتے ہیں۔ہفتہ میں تین دن سٹوروں میں پھرتے رہتے ہیں۔میں صرف نئے آنے والوں کی بات نہیں کر رہا۔ان میں سے بہت سے اللہ کے فضل سے ایسے ہیں جو قربانی کے جذبے سے سرشار ہیں اور ابھی تک وہ ایک جذبے سے کام کر رہے ہیں اور اللہ کرے کہ وہ کام کرتے رہیں۔اکثریت اپنے وقت کا احساس بھی رکھتے ہیں۔جو پہلے جیسا کہ میں نے کہا تجربہ کار ہیں ان کو اس طرف توجہ دینی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دینی علم کی جو استعدادیں بڑھائی ہیں ان کے فرائض جو اُن پر عائد کئے ہیں ان کا اپنے طور پر بھی صحیح استعمال کریں اور افراد جماعت کی استعدادیں بڑھانے میں ایک اچھے استاد کی طرح ان کا استعمال کریں۔دنیا میں کوئی بھی نظام ہو، اللہ تعالیٰ کوتو پتا تھا کہ نظام کو چلانے کے لئے مختلف قسم کے لوگوں کی ضرورت ہے۔اس