خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 671
خطبات مسرور جلد 13 671 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 نومبر 2015ء جائے گی۔ان کو کام کرنے والے نہیں ملیں گے۔آئندہ نسل جو ہے اس میں اتنا بڑا گیپ(gap)آ جائے گا کہ بیچ میں اس وقفے کو غیروں کے ذریعہ سے پر کرنا پڑے گا۔چنانچہ اب یہ اپنی پالیسیاں بدل رہے ہیں۔اور یہی نتیجہ ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کے قانون سے انسان لڑنے کی کوشش کرے اور اپنے آپ کو عقل گل سمجھے۔اب ان کو یہ فکر پیدا ہو گئی ہے کہ ہماری نسلوں میں ایک نسل سے دوسری نسل تک اتنا خلا پیدا ہو جائے گا کہ اس کو پتا نہیں کس طرح پر کیا جائے گا اور اس کی وجہ سے پھر قوموں کو نقصان ہو گا۔بہر حال یہ یمنی بات بیچ میں آئی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت خلیفہ اسی الاول کے اخلاص، عاجزی اور سادگی کا ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں۔فرماتے ہیں کہ خدمت کے لئے مختلف سامانوں کی ضرورت ہوتی تھی۔کھانا پکوانے کی ضرورت ہوتی تھی۔شروع شروع میں جب قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس مہمان آتے تھے سودا وغیرہ لانے کی ضرورت ہوتی تھی اور یہ ظاہر ہے کہ یہ کام صرف ہمارے خاندان کے افراد نہیں کر سکتے تھے۔اکثر یہی ہوا کرتا تھا کہ جماعت کے افرادمل ملا کر وہ کام کر دیا کرتے تھے۔اس وقت طریق یہ تھا لنگر خانے کا باقاعدہ انتظام تو نہیں تھا کہ اگر ایندھن آجاتا اور وہ اندرڈالنا ہوتا یعنی سٹور میں رکھنا ہوتا تو گھر کی خادمہ آواز دے دیتی کہ ایندھن آیا ہے کوئی آدمی ہے تو وہ آ جائے اور ایندھن اندر ڈال دے۔آگ جلانے کے لئے جو سامان آیا ہے۔پانچ سات آدمی جو حاضر ہوتے وہ آ جاتے اور ایندھن اندر ڈال دیتے۔دو تین دفعہ ایسا ہوا کہ کام کے لئے باہر خادمہ نے آواز دی مگر کوئی آدمی نہ آیا۔ایک دفعہ لنگر خانے کے لئے اوپلوں کا ایک گڈا آیا۔(وہ جو جلانے کے لئے او پلے استعمال کئے جاتے ہیں ) بادل بھی آیا ہوا تھا۔خادمہ نے آواز دی تا کوئی آدمی مل جائے تو وہ اوپلوں کو اندر رکھوا دے مگر اس کی آواز کی طرف کسی نے توجہ نہ کی۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت خلیفہ اول اُس وقت مسجد اقصیٰ سے قرآن کریم کا درس دے کر واپس تشریف لا رہے تھے۔آپ اس وقت خلیفہ نہیں تھے مگر علم دینیات، تقویٰ اور طب کی وجہ سے آپ کو جماعت میں ایک خاص پوزیشن حاصل تھی اور لوگوں پر آپ کا بہت اثر تھا۔آپ درس سے فارغ ہو کر گھر جارہے تھے کہ خادمہ نے آواز دی اور کہا کہ کوئی آدمی ہے تو وہ آ جائے۔بارش ہونے والی ہے ذرا او پہلے اٹھا کر اندر ڈال دے۔لیکن کسی نے توجہ نہ کی۔آپ نے جب دیکھا کہ خادمہ کی آواز کی طرف کسی نے توجہ نہیں کی تو آپ نے فرمایا اچھا آج ہم ہی آدمی بن جاتے ہیں۔یہ کہہ کر آپ نے او پہلے اٹھائے اور اندر ڈالنے شروع کر دیئے۔ظاہر ہے کہ جب شاگر داستاد