خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 672
خطبات مسرور جلد 13 672 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 نومبر 2015ء کو او پلے اٹھاتے دیکھے گا تو وہ بھی اس کے ساتھ ہی وہی کام شروع کر دے گا۔چنانچہ اور لوگ بھی آپ کے ساتھ شامل ہو گئے۔کام کرنے لگے اور او پہلے اندر ڈال دیئے۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں مجھے یاد ہے میں نے دو تین مختلف مواقع پر آپ کو ایسا کرتے دیکھا اور جب بھی آپ ایسے اٹھانے لگتے اور لوگ بھی (ماخوذ از خطبات محمود جلد 29 صفحہ 326-327) آپ کے ساتھ شامل ہو جاتے۔پھر حضرت خلیفۃ آیع الاول کا حضرت یح موعود علیہ السلام سے جوعشق تھا اس کی مثال دیتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادت تھی جب آپ بہت خوش ہوتے اور محبت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر کرتے تو مرزا کا لفظ استعمال کرتے اور فرماتے کہ ہمارے مرزا کی یہ بات ہے۔ابتدائی ایام میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ابھی دعوی نہیں تھا چونکہ آپ کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعلقات تھے اسی لئے اس وقت سے یہ لفظ آپ کی زبان پر چڑھے ہوئے تھے۔کئی نادان اس وقت اعتراض کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ حضرت مولوی صاحب کے دل میں نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ادب نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں آپ کو یعنی خلیفہ اول کو لوگ عام طور پر مولوی صاحب یا بڑے مولوی صاحب کہا کرتے تھے۔حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں میں نے خود کئی دفعہ یہ اعتراض لوگوں کے منہ سے سنا ہے اور حضرت مولوی صاحب کو اس کا جواب دیتے ہوئے بھی سنا ہے۔چنانچہ ایک دفعہ اسی مسجد میں ( یعنی مسجد اقصیٰ میں ) حضرت خلیفہ اول جبکہ درس دے رہے تھے آپ نے فرمایا بعض لوگ مجھ پر اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ادب نہیں کرتا حالانکہ میں محبت اور پیار کی شدت کی وجہ سے یہ لفظ بولا کرتا ہوں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ظاہری الفاظ کو نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ ان الفاظ کے اندر حقیقت جو مخفی ہو اس کو دیکھنا چاہئے۔(ماخوذ از الفضل 30 جون 1938 صفحہ 3 جلد 26 نمبر 147 ) پھر دوطرفہ اخلاص و محبت کی ایک اور مثال ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں حضرت خلیفتہ المسیح الاول میں جس قدر اخلاص تھا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔لیکن انہیں تیز چلنے کی عادت نہیں تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب سیر کے لئے تشریف لے جاتے تو حضرت خلیفہ اسیح الاول بھی ساتھ ہوتے مگر تھوڑی دور چل کر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تیز قدم کر لینے تو حضرت خلیفہ اول نے قصبہ کے مشرقی طرف باہر ایک بڑ کا درخت تھا اس کے نیچے بیٹھ جانا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام