خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 670 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 670

خطبات مسرور جلد 13 670 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 نومبر 2015ء ساری دنیا آپ کی مخالف تھی۔پس حضرت خلیفتہ اسی الاول کا ایک مقام ہے جو ہمیشہ قائم رہے گا۔(ماخوذ از الفضل 27 مارچ 1957 صفحہ 5 جلد 11/46 نمبر 74) اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیان کردہ یہ بات کہ جماعت کی تعداد بڑھانے کا ایک ذریعہ کثرت اولا د بھی ہے اس کے بارے میں حضرت مصلح موعود کا یہ بھی بیان ہے جو اُن کے اپنے بارے میں یا حضرت مسیح موعود کی اولاد کے بارے میں ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب ہماری شادیوں کی تجویز فرمائی تو سب سے پہلے یہ سوال کرتے تھے کہ فلاں صاحب کے ہاں کتنی اولاد ہے؟ وہ کتنے بھائی ہیں؟ آگے ان کی کتنی اولاد ہے؟ حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ جس جگہ میاں بشیر احمد صاحب کی شادی کی تحریک ہوئی اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دریافت فرمایا کہ اس خاندان کی کس قدر اولاد ہے اور جب آپ کو معلوم ہوا کہ سات لڑکے ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور تمام باتوں پر غور کرنے سے پہلے فرمانے لگے کہ بہت اچھا ہے یہیں شادی کی جائے۔فرماتے ہیں کہ میری اور میاں بشیر احمد صاحب کی شادی کی تجویز اکٹھی ہی ہوئی تھی۔ہم دونوں کی شادی کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہی دریافت فرمایا که معلوم کیا جائے کہ جہاں رشتے تجویز ہوئے ہیں ان کے ہاں اولا د کتنی ہے۔کتنے لڑکے ہیں۔کتنے بھائی ہیں۔تو جہاں آپ نے اور باتوں کو دیکھا وہاں وُلُو ڈا کو مقدم رکھا۔حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں اب بھی بعض لوگ جب مجھ سے مشورہ لیتے ہیں میں ان کو یہی مشورہ دیتا ہوں کہ یہ دیکھو جہاں رشتے تجویز ہوئے ہیں ان کے ہاں کتنی اولا د ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 3 صفحہ 396-397) آجکل کی دنیا میں فیملی پلانگ پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے۔لیکن ایسے ممالک جہاں اس پر بہت زور دیا گیا ان میں اب یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ یہ غلط ہے۔جب انسان قانون قدرت سے لڑنے کی کوشش کرتا ہے تو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ایک لمبے عرصے تک چین نے اپنے شہریوں پر پابندی لگادی تھی کہ ایک سے زیادہ بچہ نہ ہو ورنہ جرمانہ یا سزا بھی ہوگی اور وہاں ایسے بھی واقعات ہوئے کہ لوگوں نے یا اپنے بچے ضائع کر دیئے یا ان کو پیدائش کے وقت مار دیا۔لیکن اب اس کا احساس ان لوگوں میں پیدا ہوا ہے اور اب انہوں نے اس پابندی کو اٹھایا ہے۔اور بعض دوسرے ممالک بھی ہیں جہاں یہ پابندی ہے اور اب یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر یہ پابندی جاری رہی تو ان ملکوں میں کچھ عرصے کے بعد افرادی قوت بالکل ختم ہو