خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 669 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 669

خطبات مسرور جلد 13 669 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 نومبر 2015ء فرشتے شرمندہ ہو کر دوڑ جائیں گے اور ہم بھی چھلانگیں مارتے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔(ماخوذ از الفضل 27 جون 1957 صفحہ 3 جلد 11/46 نمبر 152 ) حضرت خلیفہ المسیح الاول " کی سادگی اور اطاعت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ہم نے خود حضرت خلیفہ اول کو دیکھا ہے آپ مجلس میں بڑی مسکنت سے بیٹھا کرتے تھے۔ایک دفعہ مجلس میں شادیوں کا ذکر ہو رہا تھا۔ڈپٹی محمد شریف صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی ہیں وہ سناتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول اکڑوں بیٹھے ہوئے تھے یعنی آپ نے اپنے گھٹنے اٹھائے ہوئے تھے اور سر جھکا کر گھٹنوں میں رکھا ہوا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا مولوی صاحب جماعت کے بڑھنے کا ایک ذریعہ کثرت اولا د بھی ہے اس لئے میرا خیال ہے کہ اگر جماعت کے دوست ایک سے زیادہ شادیاں کریں تو اس سے بھی جماعت بڑھ سکتی ہے۔حضرت خلیفہ اول نے گھٹنوں پر سراٹھایا اور فرمایا کہ حضور میں تو آپ کا حکم ماننے کے لئے تیار ہوں لیکن اس عمر میں مجھے کوئی شخص اپنی لڑکی دینے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہنس پڑے۔حضرت مصلح موعوددؓ فرماتے ہیں دیکھو یہ انکسار اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ادب تھا جس کی وجہ سے انہیں یہ رتبہ ملا۔(ماخوذ از الفضل 27 مارچ 1957 ، صفحہ 5 جلد 11/46 نمبر 74) آجکل بعض لوگ شادیوں کے شوقین ہیں لیکن وہ اس وجہ سے شوقین نہیں ہوتے۔اگر تو کوئی جائز وجوہ ہوں تو شادی کرنے کی اجازت ہے۔لیکن بعض لوگ اپنے گھروں کو برباد کر کے شادیاں کرتے ہیں ان کو اس چیز سے بچنا چاہئے اور اس بارے میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی سختی سے منع فرمایا ہے۔پھر حضرت خلیفہ اول کی یہ بات بیان کرنے کے بعد حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ ذکر کیا کہ آپ کے بچوں میں سے بعض نے خلافت اور جماعت کے بارے میں غلط رویہ اختیار کیا لیکن اب بھی جماعت آپ کا یعنی حضرت خلیفہ اول کا احترام کرنے پر مجبور ہے اور آپ کے لئے دعائیں کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے دلوں میں اس انکسار اور محبت کی جو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تھی وہ عظمت ڈالی ہے کہ باوجود اس کے کہ بعض بیٹوں نے غلط رویہ اختیار کیا پھر بھی ان کے باپ کی محبت ہمارے دلوں سے نہیں جاتی۔پھر بھی ہم انہیں اپنی دعاؤں میں یا درکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند کرے کیونکہ انہوں نے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا جب