خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 664 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 664

خطبات مسرور جلد 13 664 46 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 نومبر 2015ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز راحم فرمودہ مورخہ 13 نومبر 2015 ء بمطابق 13 رنبوت 1394 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن تشہد وتعوذ اورسورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالی نے فرمایا: حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالٰی عنہ کو جوعشق اور محبت کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تھا اسے ہر وہ احمدی جس نے آپ کے بارے میں کچھ نہ کچھ پڑھا ہو یا سنا ہو جانتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے محض اللہ عقد اخوت اور محبت کی کوئی مثال اگر دی جا سکتی ہے تو وہ حضرت مولانا حکیم نور الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مثال ہے۔اقرار اطاعت کرنے کے بعد اگر اس کے انتہائی معیاری نمونے دکھا کر اس پر قائم رہنے کی مثال کوئی دی جا سکتی ہے تو وہ حضرت مولانا نور الدین کی ہے۔تمام دنیوی رشتوں سے بڑھ کر بیعت کا حق ادا کرتے ہوئے اگر کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے رشتہ جوڑا تو اس کی اعلیٰ ترین مثال حضرت خلیفہ امسیح الاول کی ہے۔خادمانہ حالت کا بیمثال نمونہ اگر کسی نے قائم کیا تو وہ حضرت حکیم الامت مولانا نورالدین نے قائم کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے عجز وانکسار میں اگر ہمیں کوئی انتہائی اعلیٰ مقام پر نظر آتا ہے تو جماعت احمدیہ کی تاریخ میں اس کا بھی اعلیٰ معیار حضرت خلیفہ المسیح الاول نے قائم کیا اور پر امام الزمان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وہ پھر موعود اعزاز پایا جوکی اور کو نہیں سکا۔آپ علیہ السلام نے حضرت خلیفہ مسیح الاول کے بارے میں فرمایا کہ 'چہ خوش بودے اگر ہر یک زانت نور دیں بودے“۔نشان آسمانی روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 411) پس یہ ایک زبر دست اعزاز ہے جو کہ زمانے کے امام نے اپنے ماننے والوں کے لئے ہر چیز کا معیار حضرت مولانا نورالدین کے معیار کو بنادیا کہ اگر ہر ایک نورالدین بن جائے تو ایک انقلاب بر پا ہو سکتا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت حکیم مولانا نور الدین خلیفتہ اسیح الاوّل کے