خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 665
خطبات مسرور جلد 13 665 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 نومبر 2015ء بعض واقعات بیان فرمائے ہیں۔ان واقعات کو پڑھ کر آقا و غلام ، مرشد و مرید کے دو طرفہ تعلق اور محبت کے نمونے نظر آتے ہیں۔عاجزی اور انکساری کے نمونے بھی نظر آتے ہیں۔اخلاص و وفا کے نمونے بھی نظر آتے ہیں۔حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل کی قربانیوں کے معیار اور اطاعت کے اعلیٰ ترین نمونے کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا کہ ایک دفعہ جب آپ قادیان آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا مجھے آپ کے متعلق الہام ہوا ہے کہ اگر آپ اپنے وطن گئے تو اپنی عزت کھو بیٹھیں گے۔اس پر آپ نے وطن واپس جانے تک کا نام تک نہ لیا۔اس وقت آپ اپنے وطن بھیرہ میں ایک شاندار مکان بنا رہے تھے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ جب میں بھیرہ گیا ہوں تو میں نے بھی یہ مکان دیکھا تھا۔اس میں آپ ایک شاندار ہال بنوا ر ہے تھے تا کہ اس میں بیٹھ کر درس دیں اور مطب بھی کیا کریں۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ موجودہ زمانے کے لحاظ سے ( یعنی اس زمانے میں جب یہ بیان ہو رہا ہے ) تو وہ مکان زیادہ حیثیت کا نہ تھا لیکن جس زمانے میں حضرت خلیفہ امسیح الاول نے قربانی کی تھی اس وقت جماعت کے پاس زیادہ مال نہیں تھا۔اس وقت اس جیسا مکان بنانا بھی ہر شخص کا کام نہیں تھا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ارشاد کے بعد آپ نے واپس جا کر اس مکان کو دیکھا تک نہیں۔بعض دوستوں نے کہا بھی کہ آپ ایک دفعہ جا کر مکان تو دیکھ آئیں۔لیکن آپ نے فرمایا کہ میں نے اسے خدا تعالیٰ کے لئے چھوڑ دیا ہے اب اسے دیکھنے کی کیا ضرورت ہے۔(ماخوذ از مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات،انوار العلوم جلد 25 صفحہ 419-420) پھر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں۔جب انجمن کے بعض عمائدین اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے لگ گئے تھے اور دنیا داری کا رنگ ان پر غالب آ رہا تھا۔بہت سے معاملات جب انجمن میں پیش ہوتے تو عموماً حضرت خلیفتہ المسیح الاول اور حضرت مصلح موعودؓ کی رائے ایک ہوتی تھی اور بعض دوسرے بڑے سرکردہ ممبران کی مختلف ہوتی تھی۔بہر حال ایک ایسے ہی موقع پر ایک مجلس میں تعلیم الاسلام ہائی سکول کو بند کرنے کا معاملہ پیش ہوا۔حضرت مصلح موعودؓ اس کو بند کرنے کے خلاف تھے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی رائے بھی یہی تھی کہ اس کو بند نہ کیا جائے۔اس پر بڑی زور دار بحث ہو رہی تھی۔آخر فیصلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہونا تھا۔بہر حال اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے ایام میں بعض