خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 650 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 650

خطبات مسرور جلد 13 650 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 نومبر 2015ء ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق اور زمانے کے امام سے جڑ کر حقیقی نیکی کو پانے کا ادراک حاصل کیا۔جنہوں نے نیکی کو پانے کے لئے نیکی کے ان روشن میناروں سے صحیح راستوں کی راہنمائی حاصل کی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض پانے والے تھے۔جن کی قربانیوں کے معیار بھی عجیب تھے۔ایک حدیث میں آتا ہے جب یہ آیت اتری کہ لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا لِمَا تُحِبُّونَ و حضرت ابوطلحہ انصاری جو مدینے کے انصار میں سے مالدار شخص تھے۔ان کے کھجوروں کے باغات تھے جن میں سے سب سے زیادہ عمدہ باغ بیر وحاء کے نام کا ایک باغ تھا اور یہ حضرت ابوطلحہ کو بہت پسند تھا اور یہ مسجد نبوی کے بھی بالکل قریب تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس باغ میں اکثر جاتے تھے۔بہر حال اس آیت کے نازل ہونے پر حضرت ابوطلحہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میری سب سے پیاری جائیداد بیر وحاء کا باغ ہے۔میں اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیتا ہوں۔(صحیح البخاری کتاب التفسير باب لن تنالوا البرحتى تنفقوامماتحبون حدیث نمبر 4554) تو یہ وہ لوگ ہیں جو روشن ستارے تھے اور نیکیوں کے راستے متعین کرنے والے تھے۔پس ان صحابہ کی مثالیں دیتے ہوئے ہمیں اس زمانے کے امام نے بار بار توجہ دلائی۔آپ علیہ السلام نے اپنے متعدد ارشادات میں قرآن کریم کی تعلیمات اور احکامات کو کھول کر بیان کیا۔نیکیوں کے حصول کا فہم و ادراک دیا۔قربانیوں کے معیاروں کے بارے میں بتایا۔ان نمونوں پر قائم ہونے کی تلقین فرمائی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے قائم فرمائے تھے۔آپ نے فرمایا کہ مسیح موعود کے ماننے والوں کے لئے ان نمونوں کو اپنا نا ضروری ہے۔چنانچہ ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: بیکار اور نکلی چیزوں کے خرچ کرنے سے کوئی آدمی نیکی کرنے کا دعوی نہیں کر سکتا۔نیکی کا دروازہ تنگ ہے۔پس یہ امرذہن نشین کر لوکہ لیتی چیزوں کے خرچ کرنے سے کوئی اس میں داخل نہیں ہوسکتا۔کیونکہ نص صریح ہے لن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران: 93)۔جب تک عزیز سے عزیز اور پیاری سے پیاری چیزوں کو خرچ نہ کرو گے اُس وقت تک محبوب اور عزیز ہونے کا درجہ نہیں مل سکتا۔اگر تکلیف اٹھانا نہیں چاہتے اور حقیقی نیکی کو اختیار کرنا نہیں چاہتے تو کیونکر کا میاب اور با مراد ہو سکتے ہو کیا صحابہ کرام مفت میں اس درجے تک پہنچ گئے جو اُن کو حاصل ہوا۔دنیاوی خطابوں کے حاصل کرنے کے لئے کس قدر اخراجات اور تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی ہیں تب کہیں جا کر ایک معمولی خطاب جس سے