خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 651 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 651

خطبات مسرور جلد 13 651 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 نومبر 2015ء دلی اطمینان اور سکینت حاصل نہیں ہو سکتی ملتا ہے۔پھر خیال کرو کہ رضى اللهُ عَنْهُمْ کا خطاب جو دل کو تسلی اور قلب کو اطمینان اور مولیٰ کریم کی رضامندی کا نشان ہے کیا یونہی آسانی سے مل گیا؟ بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضامندی جو حقیقی خوشی کا موجب ہے حاصل نہیں ہو سکتی جب تک عارضی تکلیفیں برداشت نہ کی جاویں۔خدا ٹھگا نہیں جا سکتا۔مبارک ہیں وہ لوگ جو رضائے الہی کے حصول کے لئے تکلیف کی پروانہ کریں کیونکہ ابدی خوشی اور دائی آرام کی روشنی اس عارضی تکلیف کے بعد مومن کو ملتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 76,75) پھر ایک مجلس میں احباب جماعت کو نصیحت فرماتے ہوئے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ: ' دنیا میں انسان مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے۔اس واسطے علم تعبیر الرؤیاء میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص دیکھے (خواب میں دیکھے ) کہ اس نے جگر نکال کر کسی کو دے دیا ہے تو اس سے مراد مال ہے۔یہی وجہ ہے کہ حقیقی اتقاء اور ایمان کے حصول کے لیے فرما یا لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا هِمَا تُحِبُّونَ (آل عمران:93)۔حقیقی نیکی کو ہرگز نہ پاؤ گے جب تک تم عزیز ترین چیز نہ خرچ کرو گے۔کیونکہ مخلوق الہی کے ساتھ ہمدردی اور سلوک کا ایک بڑا حصہ مال کے خرچ کرنے کی ضرورت بتلاتا ہے اور ابنائے جنس اور مخلوق خدا کی ہمدردی ایک ایسی شئے ہے جو ایمان کا دوسراجز و ہے جس کے پڑوں ایمان کامل اور راسخ نہیں ہوتا۔جب تک انسان ایثار نہ کرے دوسرے کو نفع کیونکر پہنچا سکتا ہے۔دوسرے کی نفع رسانی اور ہمدردی کے لئے ایثا ر ضروری شئے ہے اور اس آیت لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ میں اسی ایثار کی تعلیم اور ہدایت فرمائی گئی ہے۔پس مال کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا بھی انسان کی سعادت اور تقوی شعاری کا معیار اور محمک ہے۔ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ کی زندگی میں لہی وقف کا معیار اور محک وہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضرورت بیان کی اور وہ گل آثاث البيت لے کر حاضر ہو گئے۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحه 95-96 66 اخلاص و وفا میں حضرت مسیح موعود کی قابل رشک جماعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو جماعت پیدا کی اس نے صرف یہ نہیں کیا کہ ان باتوں کو صرف سن لیا اور منہ دوسری طرف کر لیا اور توجہ پھیر لی بلکہ ان باتوں کو سننے کے بعد قربانیوں کے معیار بھی قائم کئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود بھی کئی جگہ، کئی مجالس میں اس بات کا ذکر فرمایا ہے۔ایک موقع پر آپ نے جماعت کے معیار قربانی کو دیکھتے ہوئے فرمایا کہ میں دیکھتا ہوں کہ صدہا