خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 649
خطبات مسرور جلد 13 649 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 نومبر 2015ء کو بھی بہت بڑھا دیا ہے۔قطع نظر اس کے کہ کسی کے پاس وافر دولت ہے یا نہیں خواہشات کی بھڑک اور روپے سے محبت اور اس کے حصول کے لئے کوشش انتہا تک پہنچی ہوئی ہے تا کہ ان تمام سہولتوں سے فائدہ اٹھایا جائے اور تمام عیاشی کی چیزوں تک پہنچ ہو جو دنیا میں کسی بھی ملک میں میسر ہیں۔خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک میں تو اس کی انتہا ہوئی ہوئی ہے۔اگر خدانخواستہ ان ملکوں کے حالات خراب ہوئے یا جنگ کی صورتحال ہوئی تو جو حالت یہاں کے رہنے والوں کی ہوگی وہ تصور سے باہر ہے۔بہر حال یہ تو ضمنی بات تھی لیکن ہر طبقے میں دولت سے محبت اور ضرورت زندگی کے نام پر نئی سے نئی چیز کی خواہش انتہا پر پہنچی ہوئی ہے اور میڈیا کی وجہ سے اور تجارتوں کی وسعت کی وجہ سے غریب یا کم ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ملکوں میں رہنے والوں کو بھی ان سہولتوں کا علم ہے جو ترقی یافتہ ممالک میں ہیں اور ان ملکوں میں بھی اگر بہت غریب نہ سہی تو کم از کم اوسط درجے کے شہریوں کی خواہشات اور ترجیحات نئی سے نئی چیز میں حاصل کرنے کی طرف ہوگئی ہیں۔بہر حال ماڈیت اپنے عروج پر ہے۔ایسے حالات میں یہ باتیں کرنا عام دنیا دار کے لئے عجیب سی بات ہے کہ نیکی کے حصول کے لئے ان چیزوں کو خرچ کرو جن سے تمہیں محبت ہے۔اپنی خواہشات کو قربان کرو، اپنی سہولتوں کو قربان کرو۔اور ایک دنیا دار یہی کہے گا کہ یہ پرانے زمانے کی فرسودہ باتیں ہیں یا یہی کہے گا کہ ٹھیک ہے تم غریبوں کے لئے خرچ کرو۔ان کی کچھ مدد کر دو۔کچھ چیریٹی میں دے دو۔لیکن یہ کہنا کہ جو چیز تمہیں سب سے زیادہ محبوب ہے اسے خرچ کرو، اپنی خواہشات کو کچل دو اور دوسروں کی خواہشات کے لئے قربانی کرو یا دین کے لئے قربانی کرو یہ عجیب مضحکہ خیز بات ہے۔مالی قربانی کرنے والے لوگ لیکن دنیا کو پتا نہیں کہ اس زمانے میں بھی ایسے لوگ ہیں جو قرآن کریم کی اس تعلیم کا ادراک رکھتے ہیں۔اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس زمانے میں بھی ایسے لوگ ہیں جو آلپر کے حصول کی کوشش کرتے ہیں یعنی ایسی نیکی کی کوشش کرتے ہیں جو دوسروں کے لئے قربانی کی انتہا ہے۔اس نیکی کی کوشش کرتے ہیں جو دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہر وقت بے چین رکھتی ہے۔اس نیکی کی کوشش کرتے ہیں جو دین کے پھیلانے کے لئے اپنے مال جان اور وقت قربان کرنے کے معیار قائم کرتی ہے۔اس نیکی کی کوشش کرتے ہیں جو اطاعت میں بڑھاتی ہے اور اس اطاعت پر عمل کرنے کے لئے یہ نہیں دیکھتے کہ مجھے کیا چیز پیاری ہے۔اس وقت سب سے پیاری چیز صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت ہے۔اس نیکی کی کوشش کرتے ہیں جو تقویٰ میں بڑھانے والی ہو۔دنیا کا بہت سا حصہ نہیں جانتا کہ یہ کون لوگ