خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 639
خطبات مسرور جلد 13 639 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اکتوبر 2015ء ڈالتے ہیں یا پروگراموں میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ یہ بچوں کی عمر کے لئے نہیں ہیں، اس عمر کے بچوں کے لئے نہیں لیکن خود گھروں میں اگر ماں باپ دیکھ رہے ہوں تو ایک تو یہ بات ہے کہ کبھی نہ بھی بچوں کی نظر اس پروگرام پر پڑ جاتی ہے جب ماں باپ دیکھ رہے ہوں۔دوسرے لاشعوری طور پر ماحول کا بھی اثر ہورہا ہوتا ہے اور بچوں کی تربیت بھی خراب ہو رہی ہوتی ہے۔ایسے ماں باپ جو ایسے پروگرام دیکھتے ہیں یہ تو ہو نہیں سکتا کہ وہ خود یہ پروگرام دیکھنے کے بعد بالکل تقویٰ کے اعلیٰ معیاروں پر قائم ہوں۔بعض دیر تک دیکھتے ہیں اور پھر صبح فجر پہ نمازوں کے لئے بھی نہیں جاگتے۔پس والدین کا بھی فرض ہے کہ اپنے گھر کے ماحول کو پاک صاف رکھیں کیونکہ لاشعوری طور پر ان چیزوں کا بھی بچوں پر اثر پڑتا ہے اور تربیت پر اثر پڑتا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جگہ بیان فرماتے ہیں کہ دعا کے لئے تعلق کی ضرورت ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بعض لوگوں کو کہہ دیا کرتے تھے کہ تم ایک نذر مقرر کرو میں دعا کروں گا۔یہ طریق اس لئے اختیار کرتے تھے کہ تعلق بڑھے۔اس کے لئے حضرت صاحب نے بارہا ایک حکایت سنائی ہے کہ ایک بزرگ سے کوئی شخص دعا کرانے گیا۔اس کے مکان کا قبالہ گم ہو گیا تھا۔مکان کے جو کاغذات تھے وہ گم گئے تھے۔اس نے کہا میں دعا کروں گا پہلے میرے لئے حلوہ لاؤ۔وہ شخص حیران تو ہوا کہ میں دعا کے لئے گیا ہوں اور یہ مجھے حلوہ کا کہہ رہے ہیں۔مگر بہر حال اس کو دعا کی ضرورت تھی حلوہ لینے چلا گیا اور حلوائی کی دکان سے حلوہ لیا۔اور جب حلوہ اس نے لیا اور حلوائی اس کو ایک کاغذ میں ڈال کر دینے لگا جو کاغذ حلوائی کے پاس پڑا ہوا تھا تو اس نے شور مچا دیا کہ اس کاغذ کو نہ پھاڑنا۔یہی تو میرے مکان کے کاغذات ہیں۔اسی کے لئے تو میں دعا کروانا چاہتا تھا۔غرض وہ حلوہ لے کر گیا اور بتایا کہ مجھے قبالہ یا وہ کاغذات مل گئے ہیں تو اس بزرگ نے کہا کہ میری غرض حلوہ سے صرف یہ تھی کہ تمہارے سے ایک تعلق پیدا ہو اور وہ تعلق دعا کے لئے تو پیدا ہونا ہی تھا تمہیں ظاہری فائدہ بھی ہو گیا۔(ماخوذ از منصب خلافت۔انوار العلوم جلد 2 صفحہ 50) تو بہت سے ایسے واقعات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے ملتے ہیں جب کسی مخلص کے کاروبار کی بہتری یا اس کی صحت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خاص درد کے ساتھ اس لئے دعا کی کہ وہ آپ کے مشن ، آپ کے اشاعت اسلام کے کاموں کے لئے مالی مدد بہت زیادہ کرتے تھے یا غیر معمولی کرتے تھے۔پس ان قربانیوں کی وجہ سے خاص تعلق ان سے پیدا ہو گیا تھا۔نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی تلقین کرتے ہوئے ایک دفعہ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے