خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 638
خطبات مسرور جلد 13 638 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اکتوبر 2015ء پس اس وقت تمام مسلم امہ میں سے حقیقی مسلمان وہی ہے جو زمانے کے امام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ہمارے لئے اگر مشکلات کھڑی ہوتی ہیں تو مستقبل کی خوشخبریاں دینے کے لئے ہیں اور یہ سچائی کو ماپنے کا بہت بڑا معیار ہے کہ مشکلات کے بعد سکھ آتے ہیں۔جماعت احمدیہ کی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ ہرا بتلا ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی کے سامان لے کر آتا ہے۔ٹی وی پروگرام اور بداثرات پھر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ بد خیالات کا اثر بغیر ظاہری اسباب کے صرف صحبت سے بھی ہو جاتا ہے۔کوئی کسی کو کسی برائی میں پڑنے کی ترغیب دے یا نہ دے اگر کسی برے کی صحبت میں انسان وقت گزار رہا ہو تو وہ برائی لاشعوری طور پر اس میں پیدا ہو جاتی ہے۔برے انسان کا اثر لاشعوری طور پر اس پر ہو رہا ہوتا ہے۔اس بات کو بیان فرماتے ہوئے آپ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک سکھ طالبعلم نے جو گورنمنٹ کالج میں پڑھتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اخلاص کا تعلق رکھتا تھا حضرت صاحب کو کہلا بھیجا یا دوسری روایت میں ہے کہ حضرت خلیفہ اسی الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذریعہ سے کہلا کے بھیجا کہ پہلے مجھے خدا پر یقین تھا مگر اب میرے دل میں اس کے متعلق شکوک پڑنے لگ گئے ہیں۔(ماخوذ از اپنے اندر جہتی پیدا کرو۔۔۔انوار العلوم جلد 24 صفحہ 422) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے کہلا بھیجا کہ جہاں تم کالج میں جس سیٹ پر بیٹھتے ہو اس جگہ کو بدل لو۔چنانچہ اس نے جگہ بدل لی اور پھر بتایا کہ اب خدا تعالیٰ کے بارے میں کوئی شک پیدا نہیں ہوتا۔جب یہ بات حضرت صاحب کو سنائی گئی تو آپ نے فرمایا کہ اس پر ایک شخص کا اثر پڑ رہا تھا جو اس کے پاس بیٹھتا تھا اور وہ دہر یہ تھا۔جب جگہ بدلی تو اس کا اثر پڑنا بند ہو گیا اور شکوک بھی نہ رہے۔تو برے آدمی کے پاس بیٹھنے سے بھی بلا اس کے کہ وہ کوئی لفظ کہے اثر پڑتا ہے اور اچھے آدمی کے پاس بیٹھنے سے ہلا اس کے کہ وہ کچھ کہے اچھا اثر پڑتا ہے۔(ماخوذ از ملائکۃ اللہ۔انوار العلوم جلد 5 صفحہ 537) پس دنیا میں خیالات ایک دوسرے پر اثر کر رہے ہوتے ہیں مگر ان کا پتا نہیں لگتا۔پس خاص طور پر نو جوانوں کو بھی اس طرف توجہ دینی چاہئے کہ ان کی دوستیاں ، ان کا اٹھنا بیٹھنا، ایسے لوگوں سے ہو جو اُن پر بداثر نہ ڈالیں۔اسی طرح ٹی وی پروگرام ہیں۔اس بارے میں بڑوں کو بھی یا درکھنا چاہئے کہ وہ بچوں کو پروگرام دیکھنے سے روکتے ہیں تو وہ اگر بچوں کو ایسے پروگرام نہ بھی دیکھنے دیں جو بچوں کے اخلاق پر برا اثر