خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 44
خطبات مسرور جلد 13 44 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جنوری 2015ء درود بھیجتے ہیں۔اے ایمان والو تم درود و سلام بھیجو نبی پر فرمایا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف یا اوصاف کی تحدید کرنے کے لئے کوئی لفظ خاص نہ فرمایا۔( ان کو محدود کرنے کے لئے کوئی خاص لفظ نہیں فرمایا۔) ”لفظ تومل سکتے تھے لیکن خود استعمال نہ کئے۔یعنی آپ کے اعمال صالحہ کی تعریف تحدید سے بیرون تھی۔( کہ اس کی کوئی حد مقرر کی جائے۔اس سے وہ باہر تھی۔اس قسم کی آیت کسی اور نبی کی شان میں استعمال نہ کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح میں وہ صدق وصفا تھا اور آپ کے اعمال خدا کی نگاہ میں اس قدر پسندیدہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے یہ حکم دیا کہ آئندہ لوگ شکر گزاری کے طور پر درود بھیجیں۔“ ( تفسیر حضرت مسیح موعود جلد 3 صفحہ 730 تحفہ سالانہ یار پورٹ جلسہ سالانہ 1897 صفحہ 50-51۔ملفوظات جلد اوّل صفحہ 37-38) پھر یہ بیان فرماتے ہوئے کہ درود شریف حصول استقامت اور قبولیت دعا کا ذریعہ ہے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی ازدیاد اور تجدید کے لئے ( یعنی محبت میں بڑھنے کے لئے اور اس کی تجدید کرنے کے لئے ) ہر نماز میں درود شریف کا پڑھنا ضروری ہو گیا۔تا کہ اس دعا کی قبولیت کے لئے استقامت کا ایک ذریعہ ہاتھ آئے۔۔درود شریف جو حصول استقامت کا ایک زبر دست ذریعہ ہے بکثرت پڑھو۔مگر نہ رسم اور عادت کے طور پر بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اور احسان کو مد نظر رکھ کر اور آپ کے مدارج اور مراتب کی ترقی کے لئے اور آپ کی کامیابیوں کے واسطے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قبولیت دعا کا شیر میں اور لذیذ پھل تم کو ملے گا۔“ ریویو آف ریلیجنز جنوری 1904ء جلد 3 نمبر 1 صفحہ 14-15) یہ مدارج وغیرہ کی ترقی کیسے ہوتی ہے؟ یہ بھی بتاؤں گا آگے جاکے۔پھر آپ فرماتے ہیں: دو 66 یہ زمانہ کیسا مبارک زمانہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان پر آشوب دنوں میں محض اپنے فضل سے اُن دنوں میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غلط باتیں کی جاتی تھیں جب آپ نے یہ ارشاد فرمایا کہ) ان پر آشوب دنوں میں محض اپنے فضل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے اظہار کے لئے یہ مبارک ارادہ فرمایا کہ غیب سے اسلام کی نصرت کا انتظام فرمایا اور ایک سلسلہ کو قائم کیا۔میں ان لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں جو اپنے دل میں اسلام کے لئے ایک دردر کھتے ہیں اور اس کی عزت اور وقعت ان کے دلوں میں ہے وہ بتائیں کہ کیا کوئی زمانہ اس زمانہ سے بڑھ کر اسلام پر گزرا ہے جس میں اس قدرسب و شتم اور توہین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کی گئی ہو اور قرآن شریف کی ہتک ہوئی ہو؟ پھر