خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 43 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 43

خطبات مسرور جلد 13 43 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جنوری 2015ء ہو بلکہ چاہئے کہ حضرت (نبی کریم سلا یا یہ ہم سے سچی دوستی اور محبت ہو اور فی الحقیقت روح کی سچائی سے وہ برکتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مانگی جائیں کہ جو درود شریف میں مذکور ہیں۔۔۔اور ذاتی محبت کی یہ نشانی ہے کہ انسان کبھی نہ تھکے اور نہ کبھی ملول ہو اور نہ اغراض نفسانی کا دخل ہو ( ذاتی غرض کوئی نہ ہو )۔اور محض اسی غرض کے لئے پڑھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خداوند کریم کے برکات ظاہر ہوں۔“ ( مکتوبات احمد جلد 1 صفحہ 534-535 مکتوب بنام میر عباس علی شاہ مکتوب نمبر 18 شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ ) پھر درود کی حکمت بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : اگر چہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی دوسرے کی دعا کی حاجت نہیں۔“ (جیسا کہ حدیث میں بھی آپ نے فرمایا کہ میرے لئے تو اللہ اور اس کے فرشتوں کا درود کافی ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں : ) لیکن اس میں ایک نہایت عمیق بھید ہے۔جو شخص ذاتی محبت سے کسی کے لئے رحمت اور برکت چاہتا ہے وہ باعث علاقہ ذاتی محبت کے اس شخص کے وجود کی ایک جزو ہو جاتا ہے“ (جو ذاتی محبت کی وجہ سے کسی کے لئے رحمت اور برکت چاہتا ہے وہ اس ذاتی محبت کے تعلق کی وجہ سے اس وجود کے چاہنے والے کے جسم کا ایک حصہ بن جاتا ہے ) فرمایا کہ: ” پس جو فیضان شخص مذعولہ پر ہوتا ہے وہی فیضان اس پر ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا جو فیض جس شخص کے لئے دعا کی جا رہی ہے اس پر ہوتا ہے دعا کرنے والے پر بھی وہی فیض ہو جاتا ہے۔) اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر فیضان حضرت احدیت کے بے انتہا ہیں اس لئے درود بھیجنے والوں کو کہ جو ذاتی محبت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے برکت چاہتے ہیں بے انتہا برکتوں سے بقدر اپنے جوش کے حصہ ملتا ہے مگر بغیر روحانی جوش اور ذاتی محبت کے یہ فیضان بہت ہی کم ظاہر ہوتا ہے۔“ ( مکتوبات احمد جلد 1 صفحہ 535 مکتوب بنام میر عباس علی شاہ مکتوب نمبر 18 شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ ) پس ہمیں چاہئے کہ یہ ذاتی جوش پیدا کرنے کی کوشش کریں۔پھر درود شریف پڑھنے کی وجہ بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ فرمایا کہ: ”ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی صدق و وفا دیکھئے۔آپ نے ہر قسم کی بد تحریک کا مقابلہ کیا۔طرح طرح کے مصائب و تکالیف اٹھائے لیکن پرواہ نہ کی۔یہی صدق و وفا تھا جس کے باعث اللہ تعالیٰ نے فضل کیا۔اسی لئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔اِنَّ اللهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ - يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسْلِيما اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رسول پر