خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 45 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 45

خطبات مسرور جلد 13 45 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جنوری 2015ء مجھے مسلمانوں کی حالت پر سخت افسوس اور دلی رنج ہوتا ہے اور بعض وقت میں اس درد سے بیقرار ہو جاتا ہوں کہ ان میں اتنی حسن بھی باقی نہیں رہی کہ اس بے عزتی کو محسوس کر لیں۔کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ بھی عزت اللہ تعالی کو منظور نہ تھی جو اس قدرسب و شتم پر بھی وہ کوئی آسمانی سلسلہ قائم نہ کرتا۔اللہ تعالیٰ کو کچھ بھی عزت منظور نہ تھی جو اس قدر سب وشتم پر وہ کوئی آسمانی سلسلہ قائم نہ کرتا۔یہاں یہ نہیں فرمایا کہ تم اٹھو اور بندوقیں پکڑو اور ڈنڈے لو اور قتل و غارت شروع کر دو بلکہ اس عزت کے قائم کرنے کے لئے آسمانی سلسلے کا قیام ضروری تھا اور فرمایا کہ ”اور ان مخالفین اسلام کے منہ بند کر کے آپ کی عظمت اور پاکیزگی کو دنیا میں پھیلاتا۔‘ دلیل سے، آپ کی خوبصورت تعلیم سے ان کے منہ بند کرتا نہ کہ گولی چلا کر۔جبکہ خود اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں تو اس تو ہین کے وقت اس صلوٰۃ کا اظہار کس قدر ضروری ہے اور اس کا ظہور اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کی صورت میں کیا ہے ( یعنی جماعت احمدیہ کی صورت میں۔پس ہمارا یہ اور بھی زیادہ فرض بن جاتا ہے کہ پہلے سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں۔پس آپ نے یہ فرمایا کہ: '' مجھے بھیجا گیا ہے تا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کھوئی ہوئی عظمت کو پھر قائم کروں۔“ (اس کے آگے یہ بھی آپ نے فرمایا ) اور قرآن شریف کی سچائیوں کو دنیا کو دکھاؤں۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 13-14) پس درود شریف کو کثرت سے پڑھنا آج ہر احمدی کے لئے ضروری ہے تا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے مقصد کو بھی ہم پورا کرنے والے ہوں۔خدا تعالیٰ کی آواز پر ہم لبیک کہنے والے ہوں۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کے دعوے پر پورے اترنے والے ہوں۔صرف نعروں اور جلوسوں سے یہ محبت کا حق ادا نہیں ہو گا جو غیر از جماعت مسلمان کرتے رہتے ہیں۔اس محبت کا حق ادا کرنے کے لئے آج ہر احمدی کروڑوں کروڑ درود اور سلام اپنے دل کے درد کے ساتھ ملا کر عرش پر پہنچائے۔یہ درود بندوقوں کی گولیوں سے زیادہ دشمن کے خاتمے میں کام آئے گا۔درود پڑھنے کا طریق پھر مزید وضاحت فرماتے ہوئے کہ درود پڑھنے کا طریق کیا ہے آپ اپنے ایک خط میں جو آپ نے اپنے ایک مرید کولکھا، فرماتے ہیں کہ: ”یہ لحاظ بدرجہ غایت رکھیں کہ ہر ایک عمل رسم اور عادت کی آلودگی سے بکلی پاک ہو جائے۔“ ( جو عمل بھی ہے صرف رسم نہ ہو اور عادت نہ ہو) اور دلی محبت کے پاک