خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 589 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 589

خطبات مسرور جلد 13 589 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 اکتوبر 2015ء صاحب مبشر مرحوم درویش قادیان کا ہے جو حضرت چوہدری غلام محمد صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹے تھے۔18 ستمبر کو تقریباً 97 سال کی عمر میں قادیان میں ان کی وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُون۔سرگودھا کے رہنے والے تھے۔پھر یہ 1934ء میں قادیان مدرسہ احمدیہ میں آئے۔194ء میں فوج میں بھرتی ہوئے۔وہاں سے ریٹائر ڈ ہونے کے بعد انہوں نے زندگی وقف کی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ارشاد پر قادیان آگئے اور قادیان میں آپ مختلف ادارہ جات میں کام کرتے رہے۔قائمقام آڈیٹر اور نائب آڈیٹر کی خدمت بجالاتے رہے۔شاہجہاں پور میں انجمن کے مختار عام کے طور پر بھی کام کیا۔قادیان کے دفتر جائیداد میں زمینوں کی نگرانی بھی کرتے رہے۔خدمت کی ان کو کافی توفیق ملی۔قاضی سلسلہ بھی تھے۔دفتر دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تربیت میں بھی خدمت کرتے رہے اور پھر وہیں سے یہ انجمن کی ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔شاعری بھی کیا کرتے تھے۔لوگوں کے جذبات کا اپنے شعروں میں اظہار کرتے تھے۔بڑے ہنس مکھ اور ملنسار تھے۔مہمان نوازی کا بڑا شوق تھا۔قادیان میں غیر مسلم طبقے میں اپنے حسن معاشرت کی وجہ سے بہت مقبول تھے۔کافی تعداد میں ان کے جنازے میں غیر مسلم بھی شامل ہوئے ہیں۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے چار بیٹے اور تین بیٹیاں عطا فرمائی تھیں۔دو بیٹے قادیان میں ہیں جبکہ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں پاکستان میں ہیں۔جو بھی مہمان قادیان آتا اس کی بڑی خدمت کرتے چاہے واقف ہو یا ناواقف ہو۔درویشی کا عرصہ بھی انہوں نے بڑے صبر اور حوصلے سے گزارا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ان کی اولا دکو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق دے۔دوسرا جنازہ مکرم خالد سلیم عباس ابوراجی صاحب ( سیریا) کا ہے جن کی 27 /اگست 2015ء کو حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے وفات ہوئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔آپ سیریا کے پرانے مخلص احمد یوں میں شامل تھے۔منیر الحصنی صاحب کی تبلیغ کے نتیجہ میں 1927ء میں آپ نے احمدیت کو قبول کیا۔صوم وصلوٰۃ کے بڑے پابند، سادہ مزاج ، نہایت صاف گو، مہمان نواز، محنتی، دیانتدار، اطاعت گزار، نیک اور مخلص انسان تھے۔پیشے کے لحاظ سے تجار تھے۔خلافت کے عاشق تھے۔نظام جماعت اور مربیان کرام کا بہت احترام کرتے تھے۔ہر ایک سے عزت اور محبت سے پیش آتے تھے۔نماز جمعہ کی ادائیگی میں بہت با قاعدہ تھے اور باوجود اس کے کہ ان کا گھر جمعہ پر آنے والوں میں سب سے دُور تھا پھر بھی بالعموم سب سے پہلے آیا کرتے تھے اور اذان دینے کا ان کو بہت شوق تھا۔عمر رسیدہ ہونے کے باوجود